بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان ریلوے کی قیمتی اراضی کو قانونی اورمحکمانہ ریکارڈ میں محفوظ بنانے کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت تقریباً 45 ہزار کنال اراضی کی ملکیت پاکستان ریلوے کے نام منتقل کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ریلوے اراضی پر ماضی میں ہونے والے قبضوں، اراضی کے ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مختلف ادوار میں تعینات متعلقہ افسران و اہلکاروں کی ذمہ داری کا تعین کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔حکومت کی جانب سے ریلوے اراضی کے تحفظ اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے پہلے بھی اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی ہدایت پر اپریل 2025 میں راولپنڈی ڈویژن میں تقریباً 14 کنال ریلوے اراضی سے تجاوزات ختم کی گئیں، جبکہ وزارت ریلوے نے واضح کیا کہ ملک بھر میں ریلوے کی زمین کو قبضوں سے پاک کرانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔اگست 2025 میں ریلوے ہیڈکوارٹرز میں وفاقی وزیر ریلوے کی زیرصدارت اجلاس میں بھی ریلوے اراضی پر تجاوزات کے خلاف مشترکہ کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، جس میں ریلوے پولیس کے ساتھ وفاقی کانسٹیبلری کو بھی کارروائی میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔قانونی ماہرین کے مطابق ریلوے اراضی کے معاملات میں Railways Act, 1890 بنیادی قانونی فریم ورک کا حصہ ہے۔ قانون میں ریلوے کی تعریف میں ریلوے کی حدود کے اندر موجود زمین اور ریلوے سے متعلقہ زمین و تنصیبات بھی شامل ہیں۔ اس لیے ریلوے کی زمین پر کسی شخص یا ادارے کا قبضہ محض ایک نجی زمین کا تنازع نہیں بلکہ متعلقہ ریکارڈ اور قانونی حیثیت کے مطابق قومی/ریلوے اثاثے کے تحفظ کا معاملہ بن سکتا ہے۔اسی تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ جن مقامات پر ریلوے کی زمین پر قبضے ہوئے ملتان ریلوے ڈویژن پاک پتن سیکشن جھنگ سیکشن شیخ وین سیکشن، لودھراں سیکشن سمہ سٹہ سیکشن وہاں متعلقہ دور میں انسپکٹر آف ورکس، ڈویژنل انجینئرنگ افسران، پراپرٹی و لینڈ افسران اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں نے موقع کا معائنہ کیا یا نہیں، قبضے کی نشاندہی کی یا نہیں، رپورٹ مرتب کی یا نہیں اور اگر رپورٹ تیار ہوئی تو اس پر مقررہ قانونی و محکمانہ کارروائی کیوں نہ ہوئی۔اور ان کے لیز رجسٹر اور سیکشن پر موجود زمین کا تعین کیا گیا یا نہیں کیا اس بابت بھی کوئی رپورٹ کی گئی کہ ٹوٹل رقبہ اور لیز پر رقبہ دیا گیا اور قبضہ دیا گیا کی بابت کیا تفصیل ہے اور کس انسپیکٹر کے دور میں قبضے ہوئےوفاقی حکومت کی اراضی اور عمارات سے متعلق Federal Government Lands and Buildings (Recovery of Possession) Ordinance, 1965 کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کی زمین اور عمارات سے غیر مجاز قابضین، سابق لیزیز یا لائسنس ہولڈرز سے قبضہ واپس حاصل کرنے کا تیز قانونی طریقہ فراہم کرنا ہے۔ قانون میں وفاقی حکومت کے زیر قبضہ یا انتظام میں موجود غیر زرعی زمین کی تعریف بھی دی گئی ہے۔لہٰذا ریلوے اراضی کے ایسے کیسز میں جہاں قانونی طور پر یہ قانون قابلِ اطلاق ہو، قبضہ واگزار کرانے کے لیے مقررہ قانونی طریقہ اختیار کیا جانا، ریکارڈ کی درستگی اور متعلقہ اتھارٹی کی کارروائی کو دستاویزی شکل دینا اہم ہوگا۔ اس کے ساتھ متعلقہ ریلوے کے قواعد و اراضی پالیسی بھی دیکھی جانا ضروری ہے۔حکومت نے ریلوے اراضی کے بہتر استعمال کے لیے Pakistan Railways Land Rules کی منظوری بھی دی تھی؛ وزارتِ اطلاعات کے مطابق یہ ریلوے اراضی کے بہتر استعمال اور آمدنی کے مواقع پیدا کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے تھے۔قومی احتساب بیورو National Accountability Ordinance, 1999 کے تحت کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز سے متعلق تحقیقات اور کارروائی کا ادارہ ہے۔ نیب خود بھی واضح کرتا ہے کہ اس کے دائرہ کار میں سرکاری اداروں، پبلک آفس ہولڈرز اور قومی اداروں سے متعلق کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، عوامی یا سرکاری املاک سے متعلق جرائم اور دیگر متعلقہ جرائم شامل ہو سکتے ہیں۔نیب آرڈیننس کی دفعہ 9 میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ اس میں سرکاری ذمہ داری کے تحت کسی جائیداد یا اثاثے کو بدنیتی سے اپنے یا کسی دوسرے کے استعمال میں لانا، کرپٹ یا غیر قانونی ذرائع سے مالی فائدہ یا جائیداد حاصل کرنا اور قانون کے خلاف اختیارات کے استعمال سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ موجودہ قانونی متن میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے مادی ثبوت اور مالی فائدے یا اثاثے کے حصول سے متعلق شرائط بھی موجود ہیں۔چنانچہ اگر کسی ریلوے اراضی کے معاملے میں تحقیقات کے دوران محض انتظامی غفلت کے بجائے قابلِ تصدیق مادی شواہد سے یہ سامنے آئے کہ کسی سرکاری عہدے دار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کسی شخص کو مالی فائدہ، جائیداد یا کوئی غیر قانونی منفعت پہنچائی، تو معاملہ نیب کے متعلقہ قانونی دائرہ اختیار میں آ سکتا ہے۔ نیب کراچی نے فروری 2026 میں پاکستان ریلوے کی 43.11 ایکڑ اراضی واگزار کراکے ریلوے کے حوالے کی، جس کی سرکاری اعلامیے کے مطابق مالیت تقریباً 9.671 ارب روپے تھی۔ نیب کے مطابق یہ معاملہ ریلوے اور ریونیو محکموں کے افسران سمیت دیگر متعلقہ افراد سے متعلق تحقیقات سے جڑا تھا اور پاکستان ریلوے کی درخواست پر 2025 میں تحقیقات دوبارہ شروع کی گئی تھیں۔یہ کارروائی اس امر کی مثال ہے کہ جب کسی قومی ادارے کی زمین کے قبضے، ریکارڈ اور ملکیتی حیثیت کے حوالے سے قابلِ تفتیش شواہد موجود ہوں تو متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے اراضی واپس حاصل کی جا سکتی ہے۔45 ہزار کنال اراضی کی ملکیت ریلوے کے نام منتقل ہونے کے بعد اب یہ بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے کہ جن مقامات پر ریلوے اراضی پر قبضے ہوئے، ان قبضوں کی تاریخ اور اس وقت تعینات انسپکٹر آف ورکس سمیت متعلقہ افسران کا ریکارڈ سامنے لایا جائے۔







