ملتان (سٹاف رپورٹر) درجنوں خواتین کی آبرو ریزی کرتے ہوئے ویڈیو فلمیں بنانے کے الزام میں زیر حراست ماہر امراض جلد ڈاکٹر احسن اظہر منیر کے خلاف چالان مکمل کرکے ملزم کو گنہگار قرار دیتے ہوئے ملتان پولیس نے اپنی رپورٹ ایڈیشنل سیشن جج الیاس شاہ کی عدالت میں پیش کر دی۔ اس رپورٹ کے ساتھ ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی 35 انتہائی فحش تصاویر اور ایک فلیش بھی لف ہے جن میں سے محض تین تصاویر بھری عدالت میں جب ایڈیشنل سیشن جج نے دیکھیں تو کہا کہ یہ تو مختلف عورتوں کے ساتھ ہیں۔ معزز جج نے کہا کہ میرے پاس اور بھی 376 کے متعدد کیس ہیں مگر یہ کیس بہت زیادہ وائرل ہو چکا ہے اور اس کی بہت زیادہ ہائپ بن چکی ہے اس لیے میں یہ کیس نہیں سن سکتا اور انہوں نے مقدمے کی فائل واپس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان جناب ارشد انجم کو بھجوا دی۔ ملزم ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی طرف سے خواجہ قیصر بٹ، چوہدری عمر حیات اور چوہدری شاکر ایڈوکیٹ پیش ہوئے جبکہ ملزم کی سابقہ اہلیہ کی طرف سے ضیاء الرحمٰن رندھاوا ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔ پولیس کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ابھی تک پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ انہیں موصول نہیں ہوئی جبکہ ملزم سے جو دو موبائل برآمد ہوئے ان میں چار سمیں تھیں اور چاروں میں مختلف اوقات میں مختلف لڑکیوں کے ساتھ انتہائی غلیظ ویڈیوز موجود تھیں جس میں سے 35 تصاویر کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے جبکہ دونوں موبائل فرانزک رپورٹ کے لیے بھجوائے گئے تھے۔ اپنی تفتیشی رپورٹ میں پولیس نے لکھا کہ دونوں فریقین کو آمنے سامنے بٹھایا گیا مگر ملزم اپنی صفائی پیش نہیں کر سکا اور گناہگار پایا گیا پولیس نے ہارڈ ڈرائیو اور لیپ ٹاپ برامد کرنے کی کوشش کی مگر ملزم حیلے بہانے سے کام لیتا رہا اور یہ دونوں ڈیوائسز پولیس کو دینے سے انکاری ہو گیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملزم عادی مجرم ہے اور عدالت میں پولیس نے ملزم کے منشیات کے استعمال اور اس کے علاج کی رپورٹیں بھی جمع کروا دیں۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم ڈاکٹر احسن اظہر منیر کے ایڈیشنل سیشن جج ماموں محمود غنی بھی ملتان کی جوڈیشل کالونی میں رہائش پذیر ہیں اور وہ مسلسل اپنے ساتھی ججوں پر اخلاقی دباؤ ڈال رہے ہیں باوجود اس کے، کہ وہ ملتان سے لیاقت پور ٹرانسفر ہو چکے ہیں مگر انہوں نے ابھی تک اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کی۔ ایک موقع پر جب ایڈیشنل سیشن جج الیاس شاہ پولیس رپورٹ کا معائنہ کر رہے تھے تو ایک انتہائی غلیظ تصویر دیکھ کر انہوں نے کہا کہ کیا یہ ملزم کی بیوی ہے مگر تصویر کے حالات سے لگتا تو نہیں کہ یہ ملزم کی بیوی ہے جس پر از خود ہی کہا کہ اچھا یہ دیگر خواتین ہوں گی۔ پولیس کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ کہ جو ریکارڈ پولیس کی طرف سے عدالت میں پیش کیا گیا اس کی مزید تفصیلات اور تصاویر ابھی بھی پولیس کے پاس موجود ہیں۔ ایک فحش تصویر کو دیکھ کر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ تصویر ملزم کی اپنی بیوی کے ساتھ ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ نہیں ملزم کی سابقہ اہلیہ نہیں بلکہ دیگر درجنوں خواتین میں سے کسی ایک خاتون کی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج الیاس شاہ کی طرف سے بھری عدالت میں کہا گیا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر یہ کیس نہیں سن سکتے اس لیے وہ یہ کیس سیشن جج صاحب کو واپس بھجوا رہے ہیں لہٰذا آپ یکم اکتوبر بروز جمعرات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت سے رجوع کریں۔ ایک مصدقہ ذریعے سے روزنامہ قوم کو معلوم ہوا ہے کہ لیاقت پور میں تعینات ایڈیشنل سیشن جج محمود غنی جو کہ ملزم کے سگے ماموں ہیں، نے اتوار کے روز ایڈیشنل سیشن جج الیاس شاہ سے ملاقات کی بھرپور کوشش کی مگر زرائع کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج الیاس شاہ نے قریبی تعلق ہونے کے باوجود ملاقات سے معذرت کر لی اور گزشتہ روز کیس سننے سے بھی انکار کر دیا اور مقدمے کی فائل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھجوا دی۔







