ملتان( قوم کرائم سیل) زندگی بھر نیک نامی اور غریب پروری کرنے والے ڈاکٹر اظہر منیر جو کہ انتہائی غریب گھر سے دن رات محنت کر کے ایم بی بی ایس ڈاکٹر بنے اور گولڈ میڈلسٹ قرار پائے اپنی اولاد کے ہاتھوں میں کہیں کے نہ رہے۔ بی سی چوک اور ملحقہ علاقوں کہ رہائشیوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اظہر منیر کے دونوں بیٹوں نے اپنے باپ کی سالہا سال کی نیک نامی پر انتہائی غلیظ دھبہ لگا دیا۔ بتایا گیا ہے کہ این سی سی آئی کے ریکارڈ کے مطابق 31 اگست دوپہر دو بجے مذکورہ ایڈیشنل سیشن جج خود چل کر اپنے بھانجے کی سفارش کے لیے مذکورہ دفتر میں تفتیشی افسر سے ملنے گئے جبکہ ان کے بیٹے نے ویمن پولیس اسٹیشن میں اپنا تعارف بطور وکیل اپنے والد کے حوالے سے کروایا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم ڈاکٹر احسن اظہر منیر کو ڈسٹرکٹ جیل کے ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے کیونکہ منشیات کی لت کی وجہ سے جیل میں اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی سابقہ اہلیہ ف نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ملزم کا دوبارہ ریمانڈ دیا جائے تاکہ اس سے لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک برآمد کی جا سکے۔ پولیس کے انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس کیس سے متعلقہ کوئی ریکارڈنگ یا ویڈیو کسی بھی طور پر باہر نہ نکلے اور کسی کے ہاتھ نہ لگے کیونکہ اس سے درجنوں زندگیوں کو موت کا انتخاب کرنا پڑ جائے گا۔ بد اخلاقی غلاظت اور گناہ میں زندگی کے کئی سال گزارنے والے ڈاکٹر احسن کے خاندان والے اس بات پہ اعتراض کر رہے ہیں کہ پولیس نے خلاف قانون ملزم کی تصویر کیوں جاری کی اور یہ غیر قانونی کام کیا ہے جبکہ انہیں اب تک ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی طرف سے کی جانے والی بد اخلاقی اور جرم پر کسی بھی قسم کی کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مدعیہ کے بھائیوں کی طرف سے پولیس کو انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیوں پر ملزم کے بھائی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی جا رہی ہے۔







