دو سو ارب کی ریفنڈز زیر التوا، برآمدی صنعت بحران کا شکار، ایف بی آر دعوے ناکام

ملتان (وقائع نگار)پاکستان میں سیلز ٹیکس ری فنڈز کا بحران، برآمد کنندگان کی لیکویڈیٹی خشک، ٹیکسٹائل انڈسٹری مفلوج سال 2022 سے جاری سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی نہ ہونے کا بحران اب شدت اختیار کر چکا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار اور محاسبہِ عام (AGP) کی رپورٹس کے مطابق برآمد کنندگان کو 200 ارب روپے سے زائد کا ری فنڈز ملنے میں شدید تاخیر ہو رہی ہے جس سے ہزاروں صنعتی یونٹس لیکویڈیٹی کے بحران کا شکار ہیں اور ملکی برآمدات پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ایف بی آر کے نظام میں موجود خامیوں، مالی خسارے اور انتظامی نااہلی کی وجہ سے یہ مسئلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ AGP کی 2024-25 کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 194 کیسز میں 92.84 کروڑ روپے کے ناجائز ری فنڈز جاری کیے گئے جبکہ 1,143 کیسز میں 3,550 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کا پوسٹ ری فنڈ آڈٹ تک نہیں کیا گیا۔ ایک لاہور کیس میں 34.76 کروڑ روپے کی ری فنڈ مشکوک قرار دی گئی جس پر عدالت نے بھی مکمل ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر حیرت کا اظہار کیا۔2022 میں برآمد کنندگان کے لیے زیرو ریٹڈ ریجیم (SRO 1125) ختم کر کے ان پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس نافذ کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد برآمد کنندگان کو اپنے اخراجات میں بے پناہ اضافہ برداشت کرنا پڑا، جبکہ ریفنڈز کی ادائیگی کا نظام ناکام رہا۔ ایف بی آر نے 72 گھنٹوں میں ریفنڈ کلیئر کرنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر حقیقت اس سے بالکل مختلف نکل آئی۔سب سے زیادہ متاثر ہونے والی صنعت ٹیکسٹائل ہے، جو پاکستان کی کل برآمدات کا 60 فیصد سے زائد حصہ ہے۔ اس کے علاوہ پھلوں، سبزیوں اور دیگر نازک اشیا برآمد کرنے والے بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی برآمد کنندگان آرڈر منسوخ ہونے کی وجہ سے مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ایک برآمد کنندہ نے بتایایہ اعتماد کا فقدان پیدا کر رہا ہے۔ ہم ٹیکس ادا کر رہے ہیں مگر ہمارا حق واپس نہیں مل رہا۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو ہم اپنے یونٹس بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔”2022 میں برآمد کنندگان نے ریفنڈز نہ ملنے کی صورت میں یونٹس بند کرنے کی دھمکی دی تھی، مگر تاحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔محاسبہِ عام نے حکومت کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ زیر التوا ریفنڈ کیسز کا فوری ازالہ کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگست 2025 میں صنعتی پالیسی کمیٹی نے ریفنڈز کی ادائیگی 72 گھنٹوں کے اندر یقینی بنانے کی تجویز پیش کی تھی تاہم اس پر عملی پیش رفت نہیں ہوئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بحران کا جلد از جلد حل نہ نکالا گیا تو نہ صرف برآمدی شعبہ مزید کمزور ہو گا بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھے گا۔حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی ہے، جس سے متاثرہ صنعتکاروں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں