ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں کمپیوٹنگ پروگرامز کے داخلوں کے معاملے نے یونیورسٹی انتظامیہ کی انتظامی اور قانونی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی جانب سے 18 جون کو داخلوں کے حوالے سے ہدایات جاری ہونے اور بعد ازاں 2 ستمبر کو کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلوں سے متعلق مزید ہدایات سامنے آنے کے باوجود داخلہ اشتہار، درخواستوں کی وصولی، میرٹ لسٹوں کے اجرا اور کلاسز کے آغاز کے فیصلوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو کڑے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر HEC کی ہدایات داخلوں کی راہ میں رکاوٹ تھیں تو یونیورسٹی انتظامیہ نے داخلہ عمل شروع کرنے کی قانونی اتھارٹی آخر کہاں سے حاصل کی؟صورتحال نے یونیورسٹی انتظامیہ کی انتظامی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، کیونکہ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے سربراہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل متعلقہ قوانین، HEC کی ہدایات اور یونیورسٹی کے مجاز فورمز کی منظوری کو یقینی بنائیں گے۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ اگر داخلوں کے لیے کوئی خصوصی قانونی یا تحریری اجازت موجود تھی تو اسے عوام، طلباء اور ان کے والدین کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا؟ کیا یونیورسٹی انتظامیہ اس مبینہ اجازت نامے کو منظرعام پر لانے کے لیے تیار ہے؟یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اگر HEC کی اجازت یا ہدایات کی روشنی میں کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلوں کے حوالے سے واضح رکاوٹ موجود تھی تو یونیورسٹی نے باقاعدہ اشتہار جاری کرکے طلباء و طالبات سے درخواستیں کیوں وصول کیں؟ کیا اس عمل سے سینکڑوں طلباء کو ایسی تعلیمی امید نہیں دلائی گئی جس کی قانونی اور ریگولیٹری بنیاد پہلے سے مکمل طور پر واضح نہیں تھی؟ طلباء سے درخواستیں، فیس اور دیگر اخراجات وصول کرنے کے بعد اگر پروگرام کی حیثیت متنازع ہو جائے تو اس نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟مزید سنگین سوال یہ ہے کہ 2 ستمبر کو HEC کی جانب سے کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلوں سے روکنے کی ہدایات موصول ہونے کے باوجود میرٹ لسٹیں کس اختیار کے تحت جاری کی گئیں؟ اگر اس وقت تک HEC کی ہدایات یونیورسٹی کے علم میں آ چکی تھیں تو میرٹ لسٹوں کے اجرا کا فیصلہ کس مجاز فورم نے کیا؟ کیا یونیورسٹی انتظامیہ اس فیصلے کی مکمل انتظامی ذمہ داری قبول کرتے ہیں؟ اگر اس فیصلے کے پیچھے کوئی تحریری منظوری، سنڈیکیٹ کا فیصلہ یا کسی دوسرے مجاز فورم کی اجازت موجود ہے تو اسے سامنے لانے میں کیا رکاوٹ ہے؟اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ HEC کی پابندی یا واضح ہدایات کے باوجود کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کس مجاز اتھارٹی نے کیا؟ اگر وائس چانسلر نے یہ فیصلہ اپنی صوابدید پر کیا تو اس صوابدید کی قانونی بنیاد کیا ہے؟ اور اگر کسی دوسرے مجاز فورم نے اجازت دی تو اس فورم کا تحریری فیصلہ کہاں ہے؟ یونیورسٹی انتظامیہ کو اب یہ وضاحت کرنا ہوگی کہ آیا اس کے پاس HEC کی ہدایات سے مختلف اقدام کرنے کے لیے کوئی واضح قانونی اختیار موجود تھا یا نہیں۔تعلیمی حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ کیا کسی وائس چانسلر کو HEC کی واضح ہدایات کے برخلاف داخلے دینے کا آزادانہ اختیار حاصل ہے؟ اگر یونیورسٹی انتظامیہ کا جواب ہاں میں ہے تو متعلقہ قانون، ایکٹ، آرڈیننس، ریگولیشن یا HEC پالیسی کی وہ مخصوص شق سامنے لائی جائے جس کے تحت یہ اختیار استعمال کیا گیا۔ محض انتظامی صوابدید یا وائس چانسلر کے عہدے کو قانونی اختیار کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔کمپیوٹنگ پروگرامز کے معیار سے متعلق HEC کے جائزے میں اگر خامیوں یا اعتراضات کی نشاندہی ہوئی تھی تو ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان خامیوں کو مکمل طور پر دور کیے بغیر نئے طلباء کو داخلہ دینا کس تعلیمی اور اخلاقی اصول کے تحت درست قرار دیا گیا؟ یونیورسٹی کا بنیادی فرض طلباء کو معیاری تعلیم، تسلیم شدہ پروگرام اور محفوظ تعلیمی مستقبل فراہم کرنا ہے، نہ کہ ایسے پروگرام میں داخلہ دینا جس کی ریگولیٹری حیثیت کے بارے میں خود متعلقہ اداروں کے درمیان اختلاف یا اعتراض موجود ہو۔سب سے تشویشناک پہلو ان طلباء کا مستقبل ہے جنہوں نے یونیورسٹی کے اشتہار پر اعتماد کرتے ہوئے داخلہ لیا۔ اگر مستقبل میں HEC یا متعلقہ ایکریڈیٹیشن ادارہ ان پروگرامز، ڈگریوں یا ان کی حیثیت پر اعتراض اٹھاتا ہے تو طلباء کے ضائع ہونے والے وقت، تعلیمی سال، فیس اور دیگر اخراجات کا ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ان طلباء کو تحریری ضمانت دینے کے لیے تیار ہے کہ ان کی ڈگریاں اور تعلیمی مستقبل کسی ریگولیٹری فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے؟اب یونیورسٹی انتظامیہسے براہِ راست یہ سوال بھی بنتا ہے کہ اگر HEC کی ہدایات ان کے علم میں تھیں تو پھر داخلے مکمل کروانے، میرٹ لسٹیں جاری کرنے اور کلاسز شروع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا یونیورسٹی انتظامیہ نے HEC کی ہدایات کو نظرانداز کرکے اپنی الگ پالیسی اختیار کی؟ اگر ایسا نہیں تھا تو پھر اس پورے عمل کی قانونی دستاویزات کہاں ہیں؟یونیورسٹی کے سربراہ کی انتظامی کارکردگی کا اصل امتحان ایسے ہی حساس معاملات میں ہوتا ہے۔ طلباء کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ابہام، جلد بازی یا قانونی حیثیت واضح کیے بغیر اقدامات نہ صرف انتظامی کمزوری کا تاثر پیدا کرتے ہیں بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ محض زبانی وضاحت کے بجائے HEC کے خطوط، داخلوں کی منظوری، میرٹ لسٹوں کے اجرا اور کلاسز شروع کرنے سے متعلق تمام متعلقہ تحریری احکامات عوام اور طلباء کے سامنے رکھیں۔بالآخر سب سے اہم سوال یہی ہے کہ HEC کی مبینہ پابندی کے باوجود کیے گئے ان داخلوں کی مکمل ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ اگر مستقبل میں کسی طالب علم کا تعلیمی سال، ڈگری یا لاکھوں روپے کی فیس متاثر ہوتی ہے تو کیا یونیورسٹی انتظامیہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے اور طلباء کے نقصان کے ازالے کے لیے تیار ہو گی؟ ان سوالات کا واضح، دستاویزی اور قانونی جواب ہی یہ طے کرے گا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ تمام اقدامات کسی باقاعدہ قانونی اختیار کے تحت کیے یا محض انتظامی صوابدید پر۔







