ملتان (نمائندہ خصوصی) ملتان پولیس میں کرپشن کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کے بعد محکمہ پولیس کے اندرکھلبلی مچ گئی، دو سب انسپکٹرز کو ملازمت سے برخاست کیے جانے کے بعد اب آئندہ کس کی باری ہوگی؟ یہ سوال پولیس افسران و اہلکاروں میں گردش کرنے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملتان سمیت پنجاب بھر میں کرپشن، بدعنوانی، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور فرائض میں غفلت کے مرتکب پولیس افسران و اہلکاروں کی سخت مانیٹرنگ شروع کر دی گئی ہے جبکہ بعض ذرائع کی جانب سے ایسے اہلکاروں اور افسران کی مبینہ فہرستیں بھی مرتب کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ملتان میں سابق ایس ایچ او تھانہ ڈی ایچ اے سب انسپکٹر حافظ شہباز اور سابق ایس ایچ او تھانہ بدھلہ سنت سب انسپکٹر سعید ملک کو محکمانہ تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے کے بعد سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کی جانب سے ڈسمس فرام سروس کیے جانے کے بعد پولیس میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے معاملات میں اب کارروائی محض تبادلے یا معطلی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سنگین نوعیت کے معاملات میں ملازمت سے برطرفی جیسے سخت فیصلے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے سرکاری اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف واضح پالیسی اختیار کی گئی ہے جبکہ پولیس حکام کو بھی میرٹ، شفافیت اور احتساب یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان سمیت پنجاب بھر میں ایسے افسران و اہلکار جو کرپشن، اختیارات سے تجاوز، شہریوں سے مبینہ بدسلوکی یا فرائض میں غفلت کے حوالے سے شکایات یا ریکارڈ رکھتے ہیں، ان کی کارکردگی اور سابقہ تعیناتیوں سمیت مختلف پہلوؤں کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ دو سب انسپکٹرز کے خلاف کارروائی کے بعد پولیس حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ محکمانہ احتساب کا اگلا مرحلہ کن افسران و اہلکاروں تک پہنچے گا۔ ذرائع کے مطابق شکایات، محکمانہ ریکارڈ اور دیگر دستیاب معلومات کی بنیاد پر معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہےتاہم کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف حتمی کارروائی مکمل تحقیقات اور الزامات ثابت ہونے سے مشروط ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پالیسی کے مطابق کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کو برداشت نہ کرنے کا پیغام پولیس سمیت تمام سرکاری اداروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔







