تازہ ترین

ڈاکٹر احسن اظہر جنسی سکینڈل، 1200 فحش ویڈیوز برآمد، مدعیہ کے بھائی کو ٹارگٹ کلنگ کی دھمکی

ملتان (روزنامہ قوم کرائم ریسرچ سیل) انتہائی ذمہ دار پولیس ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ملتان کے معروف امراض جلد ڈاکٹر اظہر منیر کے بیٹے ڈاکٹر احسن اظہر منیر کے موبائل سے مبینہ طور پر 1200 سے زائد انتہائی قابل اعتراض فحش ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں جبکہ اس کی جو مختلف خواتین اور لڑکیوں سے غیر اخلاقی گفتگو پر مشتمل چیٹنگ ہے وہ بھی ہزاروں کی تعداد میں ہے۔ ڈاکٹراحسن اظہرمنیرکاجنسی سکینڈل سامنے آنےپرممتازآبادکے علاقے پیپلزکالونی میں ڈاکٹراظہرمنیرکے کلینک کوسیل کردیاگیا۔دوسری طرف مدعیہ مقدمہ( ف) کے بھائی کو مختلف نامعلوم افرادنے واٹس ایپ کال کر کے دھمکی دی ہے کہ ہم نے اندرون شہر کے شوٹرز کو آٹھ لاکھ روپیہ ٹوکن دے دیا ہے اور اگر آپ نے مقدمہ واپس نہ لیا اور کارروائی بند نہ کی تو آپ کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل کی خبر کی ایک اعلیٰ پولیس آفیسر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ دو دن میں مذکورہ ملزم ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی بدکاریوں اور سیاہ کاریوں کے حوالے سے جو معلومات سامنے آئی ہیں وہ اتنی خوفناک ہیں کہ ہم انہیں سامنے نہیں لا سکتے کیونکہ اس سے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں گھر برباد ہو سکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جس متعلقہ جج نے ایک ایڈیشنل سیشن جج کے دباؤ پر ملزم کو پولیس ریمانڈ پر دے کر مزید برآمدگی کروانے کی بجائے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے اس کی بھی انکوائری کے لیے درخواست دے دی گئی ہے اور ذرائع کے مطابق مذکورہ درخواست منظور بھی ہو چکی ہے جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ڈائریکٹر جنرل عبد الرحیم کو بھی بھجوائی گئی درخواستیں کارروائی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے ڈاکٹر احسن اظہر منیر کے موبائل سے متعدد ایسے گھروں کی تصاویر ملی ہیں جو اس نے مختلف لڑکیوں کو بھیج کر یہ دعویٰ کر رکھا تھا کہ یہ گھر میں آپ کے نام کر رہا ہوں آپ اسے پسند کر لیں اگر آپ کو پسند ہے تو اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دیں تاکہ میں آپ کے نام اس گھر کو ٹرانسفر کر سکوں اور حیران کن امر یہ ہے کہ ایک ہی گھر کی تصویر اور ویڈیو تقریباً 77 لڑکیوں کو بھیجی جا چکی ہے جو کہ ملزم کے ریکارڈ سے سامنے آیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل میں اس درندے ڈاکٹر کے بارے میں تفصیلات شائع ہونے کے بعد اس کے ایڈیشنل سیشن جج ماموں کسی حد تک پس منظر میں جا چکے ہیں مگر جس جج نے ملزم کو دباؤ پر مزید ریمانڈ دینے کی بجائے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اس نے بھی تحریری طور پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ مجھ پر مذکورہ جج کا شدید دباؤ تھا اور میں وہ دباؤ برداشت نہ کر سکا۔ ممتاز آباد سے روزنامہ قوم کے دفتر آنے والے معززین شہر کے ایک وفد نے بتایا کہ ڈاکٹر اظہر منیر شادی سے پہلے انتہائی غریب پرور اور لوگوں سے تعاون کرنے والے ڈاکٹر تھے اور ان کی فیس صرف 50 روپے تھی جبکہ غریب مریضوں کو مفت دیکھ لیتے تھے مگر بدقسمتی سے ان کی شادی ایک بڑے خاندان میں ہو گئی اور ان کی اہلیہ انتہائی لالچی اور پیسے کی پجاری تھی جس پر پہلے تو ڈاکٹر نے اپنی فیسوں میں اچھا خاصا اضافہ کیا اور مختلف لوگوں سے ان کی حیثیت کے مطابق فیس لینا شروع کر دی اور یہ پاکستان کا واحد ڈاکٹر بن گیا جس کی وقت کے ساتھ فیس بدلتی تھی۔ صبح کے وقت کچھ اور فیس ہوتی تھی دوپہر کو اور اور رات کو اور جوں جوں انہیں دیر تک بیٹھنا پڑتا تھا فیس بڑھتی جاتی تھی پھر انہوں نے اپنی بیوی کے دباؤ پر اپنے ایک رشتہ دار کو اپنی دکان سے منسلک میڈیکل سٹور بنا دیا ۔ یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ مختلف ادویہ ساز کمپنیوں سے اپنے نام کی دوائیاں تیار کروا کر مہنگے داموں بیچنا شروع کی جو صرف انہی کے سٹور سے ملتی تھیں، شہر میں اور کہیں پہ بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی۔ چاند ہی سالوں میں انتہائی غریب پرور ڈاکٹر اظہر منیر نے ایک ظالم اور بے رحم ڈاکٹر کی شکل اختیار کر لی۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ڈاکٹر منیر اظہر کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہ ایک لوئر میڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے مگر ان کی شادی اپنے سے بڑے خاندان میں ہو گئی جو انہیں لے کر ڈوب گئی اور ان کی اولاد بھی برباد ہو گئی۔ ممتاز آباد کے مکینوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اظہر منیر گولڈ میڈلسٹ تھا اور سکن سپیشلسٹ کے حوالے سے اللہ نے ان کے ہاتھ میں بہت شفا رکھی تھی مگر جب سے انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے والدین سے بھی سخت سلوک کرنا شروع کر دیا تو اللہ نے ان کے ہاتھ سے برکت چھین لی اور پھر ان کی اولاد نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اور جس کا نتیجہ اس شکل میں سامنے آیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں