بجلی چوری: میپکو آپریشن کا دوہرا معیار، عام صارف گرفتار باثر افراد محفوظ، افسر زیر عتاب

ملتان(قوم ریسرچ سیل)’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور‘‘بجلی چوروں کیخلاف بلاامتیازکریک ڈائون کے میپکواتھارٹی کے دعوے جھوٹے ،پرچے ،جرمانے اورگرفتاریاں صرف عام صارفین کیلئے ہیں۔بااثر افرادو میپکو ملازمین بجلی چوری اپناحق سمجھتے ہیں۔عملی صورتحال یہ ہے کہ میپکومیں واپڈاملازمین سمیت بااثر شخصیات کی بجلی چوری پکڑنا ’’سنگین جرم‘‘ ہے،دیانتدار افسران و اہلکاروں کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیوں کا انکشاف ہواہے ،ذرائع کے مطابق میپکو میں ایک طرف بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز آپریشن، بجلی چوروں کے خلاف مقدمات اور بھاری جرمانوں کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب بااثر شخصیات کے خلاف بجلی چوری پکڑنے والے دیانتدار افسران و اہلکاروں کو مبینہ طور پر دباؤ، شوکاز نوٹسز، انکوائریوں، تبادلوں اور دیگر انتظامی اقدامات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جس سے میپکو کے انسدادِ بجلی چوری آپریشن کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ میپکوکے مختلف افسران نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا کہ عملی صورتحال ہیکسرمختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عام صارفین کے خلاف کارروائی نسبتاً آسان جبکہ بااثر افراد کے خلاف کارروائی کرنے والے افسران کو بعدازاں مختلف انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔ ماضی میں مختلف سیاسی شخصیات، اراکین اسمبلی اور خود میپکو افسران و ملازمین کے خلاف بجلی چوری کی کارروائی کرنے والے افسران وملازمین کو مبینہ طور پر انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دور دراز علاقوں میں تبدیل کیا گیا، شوکاز نوٹسز جاری ہوئے۔ انکوائریاں قائم ہوئیں ۔مسلسل انتظامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔وزیرخارجہ کے دست رات کی بجلی چوری نہ چھوڑنے پر چیف ایگزیکٹو آفیسرمیپکوکو سیٹ سے ہاتھ دھوناپڑے۔اصول پرستی کی قیمت عہدے سے فراغت کی صورت میں چکائی ۔2ارکان قومی اسمبلی کے خلاف کارروائی پر ایس ای میپکوملتان کو تحریک استحقاق کابھی سامناکرناپڑاوہ چیف انجینئرپروموٹ ہوکرفیسکوگئے توسیاسی انتقام نے وہاں بھی ان کاپیچھا نہ چھوڑااوراپنی سروس کے آخر تک انتقامی کارروائیوں،دبائو، انکوائریوں کاسامناکرتے رہے۔ان کی وفات کے بعدان کے 2 دیانتداربیٹے طویل عرصہ تک اپنے اصول پسندباپ کی فرض شناسی کی قیمت چکاتے رہے۔ایک دیانتدارایس ڈی او نے میپکوکالونی میں اپنے ہی ڈائریکٹر ایڈمن کی رہائش گاہ پر8ہزاریونٹس کی بجلی چوری پکڑی۔ڈائریکٹر کاتوکچھ نہیں بگڑا۔البتہ دیانتدارایس ڈی اوانتظامی طورپرزیرعتاب آگیا۔ایک ایس ڈی اواس لئے مسلسل زیرعتاب ہے اورانتقامی انتظامی کارروائیوں وانکوائریوں کاشکارہوکرمسلسل کھڈے لائن ہے کہ اس نے ایم پی اے کے قریبی رشتہ داربجلی چورپرہاتھ ڈالا۔جنرل منیجرمیپکوکے منع کرنے کے باوجود ایک مارکیٹ کی بجلی چوری پرہاتھ ڈال دیا۔بجلی چوری کے سہولت کاربااثر ملازمین کےنیٹ ورک کوبھی نہیں بخشا ۔ایک دیانتدارمیٹرریڈرنے بلاامتیاز بااثر افرادکی بجلی چوریاں پکڑیں تومحکمے نے اسے رولنگ سٹون بنادیا، تبادلے کرکے اسےکبھی کہیں اورکبھی کہیں اٹھاکرپھینک دیاجاتاہے۔بجلی چورمافیانے اس پربدمعاشوں کے حملے بھی کروائے مگرپھربھی وہ تن تنہافرض کی خاطرلڑتارہالیکن محکمے نے اس کاساتھ دینے کی بجائے بااثربجلی چورمافیاکاساتھ دیا۔دیانتدارافسران وملازمین کیخلاف انتقامی کارروائیاں جاری ہیں۔دیانتدارافسران وملازمین کوکوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ایک میپکو افسر نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انتہائی معنی خیز جملہ کہا:”وہ بدقسمت انسان ہے جو آج کے دور میں بھی دیانتدار ہے۔‘‘سابق افسر کے مطابق اگر ایک افسر کو یہ خوف لاحق ہو جائے کہ بااثر بجلی چور کے خلاف کارروائی کرنے کے بعد خود اس کے خلاف محکمانہ کارروائی، تبادلہ یا انکوائری شروع ہو سکتی ہے تو پھر انسدادِ بجلی چوری مہم کی روح ہی متاثر ہو جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر میپکو انتظامیہ واقعی ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے تو پھر سیاسی شخصیت ہو، صنعتکار ہو، سرکاری افسر ہو، میپکو ملازم ہو یا عام صارف، بجلی چوری ثابت ہونے کی صورت میں قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کارروائی کرنے والے افسر کو مکمل ادارہ جاتی تحفظ ملنا چاہیے۔اس حوالے سےقوم ریسرچ سیل کی تحقیقات میں سامنے آنے والے یہ واقعات اس بنیادی سوال کو مزید اہم بنا رہے ہیں کہ میپکو میں بجلی چوری کے خلاف آپریشن واقعی ’’بلاامتیاز‘‘ ہے یا بعض معاملات میں اس کا نشانہ صرف وہ لوگ بنتے ہیں جن کے پیچھے کوئی طاقتور سایہ موجود نہیں؟۔وفاقی وزیرپاورڈویژن۔سیکرٹری پاورڈویژن،چیئرمین بی اوڈی ، چیف ایگزیکٹو سمیت سب حکام اس معاملے پرخاموش ہیں۔بے چارگی و افسوس کاعالم ہے کہ میپکو ملازمین سمیت بااثر افرادکی بجلی چوری پرہاتھ ڈالنے والے دیانتدارافسران وملازمین یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے نام نہ لکھیں وگرنہ وہ اس سے بھی بڑے محکمانہ انتظامی عتاب میں آجائیں گے۔ اس حوالے میپکو حکام نے موقف دینے سے گریز کیاہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں