پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر وسیع تر سیاسی مشاورت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم معاملے کو اٹھارویں ترمیم کی طرز پر اتفاقِ رائے سے آگے بڑھایا جائے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے عجلت میں کوئی فیصلہ وفاق کی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں عوام اور منتخب نمائندوں کی رضامندی کے بغیر انتظامی تقسیم مزید پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے ایسی قانون سازی سے گریز کیا جانا چاہیے جو متنازع بن جائے، جبکہ اس معاملے پر تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور صورتحال مسلسل سنگین ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے میں مالی وسائل بھی ایک اہم مسئلہ ہیں جبکہ صوبوں کا وفاق پر اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد سیاسی اتفاقِ رائے کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاقی کابینہ نے نئے صوبے بنانے کا باقاعدہ فیصلہ کرلیا ہے؟ کیا پنجاب اور بلوچستان اسمبلیوں نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کوئی بل منظور کیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی پارٹی پالیسی بھی اس معاملے پر واضح طور پر سامنے نہیں آئی۔







