ملتان (قوم ریسرچ سیل )میپکو کی مبینہ اووربلنگ کا نیا سکینڈل، ایک لاکھ سے زائد غریب برباد،پروٹیکٹڈکیٹگری سے نان پرٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہوگئے۔دو تین روز تاخیر سے ریڈنگ، پرانی تاریخ درج کرنے کا مبینہ کھیل، پروٹیکٹڈ صارفین نان پروٹیکٹڈ بن گئے، بل چار گنا تک بڑھ گئے۔ذرائع کے مطابق میپکو ریجن میں بجلی صارفین کے ساتھ مبینہ طور پر ایسا سنگین کھیل کھیلے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کا خمیازہ غریب اور کم آمدن والے ایک لاکھ سے زائد صارفین بھگت رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میٹر ریڈنگ دو سے تین روز تاخیر سے لینے اور ریکارڈ میں پرانی تاریخ درج کرنے کے مبینہ طریقہ کار کے باعث بڑی تعداد میں 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین نان پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں چلے گئے جبکہ متاثرہ صارفین کے بجلی بل کئی گنا بڑھ گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چند اضافی یونٹس کے باعث ایسے صارفین جو معمولی فرق سے 200 یونٹس کی حد عبور کر گئے، انہیں پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے محروم ہونا پڑا۔ نتیجتاً بعض گھروں میں چند ہزار روپے کا بل اچانک کئی گنا بڑھ کر ہزاروں روپے تک پہنچ گیا۔ غریب صارفین سوال کر رہے ہیں کہ کیا چند اضافی یونٹس ان کے پورے گھر کا بجٹ تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں؟متاثرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدن کے باعث پہلے ہی بجلی کا بل ادا کرنا مشکل ہے، اوپر سے اچانک کئی گنا اضافی بل تھما دیے گئے ہیں۔ شہری درستگی کے لیے میپکو کے مختلف دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، درخواستیں دے رہے ہیں، افسران کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیںمگر ان کے بقول ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ذرائع کے مطابق بعض میٹر ریڈرز نے بھی مبینہ طور پر اس طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ریڈنگ حقیقت میں دو تین روز بعد لی جائے اور بلنگ ریکارڈ میں پرانی تاریخ درج کی جائے تو یہ صارفین کے ساتھ ناانصافی کے ساتھ ساتھ میٹر ریڈرز کو بھی عوامی غصے کے سامنے کھڑا کرنے کے مترادف ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایک لاکھ سے زائد صارفین اس مبینہ طریقہ کار سے متاثر ہوئے ہیں تو ذمہ دار کون ہے؟ کیا غریب صارفین کو چند یونٹس کی بنیاد پر کئی ماہ تک بھاری بلوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا میٹر ریڈنگ کی تاریخ اور حقیقی ریڈنگ کے درمیان فرق کی کوئی نگرانی نہیں ہو رہی؟یہ صارفین کے حقوق، شفاف بلنگ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ محکمہ توانائی، نیپرا اور میپکو کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ مبینہ طور پر متاثر ہونے والے ایک لاکھ سے زائد صارفین کا فوری ڈیٹا آڈٹ کیا جائے، میٹر ریڈنگ کی تصاویر اور تاریخوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے، غلط بل فوری درست کیے جائیں اور ذمہ دار افسران و اہلکاروں کا تعین کرکے کارروائی کی جائے۔دوسری جانب اس معاملے پر میپکو ترجمان سے مؤقف لینے کے لیے فون پر رابطے کی کوشش کی گئی تاہم رابطہ نہ ہو سکا۔







