میپکو کا جھٹکا: اووربکنگ سے ایک لاکھ صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے محروم، بل چار گنا-میپکو کا جھٹکا: اووربکنگ سے ایک لاکھ صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے محروم، بل چار گنا-فرینڈز گروپ و انتخابی سرگرمیاں تیز، ایسوسی ایٹ کلاس ووٹرز کامیاب کرائیں: ذوالفقار انجم-فرینڈز گروپ و انتخابی سرگرمیاں تیز، ایسوسی ایٹ کلاس ووٹرز کامیاب کرائیں: ذوالفقار انجم-پیپلز پارٹی واپسی، افتخار نذیر اور بھائی خاموش، کارکنوں کی تردیدیں، سیاسی قیاس آرائیاں تیز-پیپلز پارٹی واپسی، افتخار نذیر اور بھائی خاموش، کارکنوں کی تردیدیں، سیاسی قیاس آرائیاں تیز-میونسپل کمیٹی جہانیاں کا ایکشن، طاقتور کلرک عابد حسین معطل، رہائشی الاٹمنٹ منسوخ-میونسپل کمیٹی جہانیاں کا ایکشن، طاقتور کلرک عابد حسین معطل، رہائشی الاٹمنٹ منسوخ-بیوہ یا طلاق یافتہ خواتین شادی کرنا چاہیں تو انہیں منفی نگاہ سے نہ دیکھیں: اداکار حمزہ علی عباسی -بیوہ یا طلاق یافتہ خواتین شادی کرنا چاہیں تو انہیں منفی نگاہ سے نہ دیکھیں: اداکار حمزہ علی عباسی 

تازہ ترین

پیپلز پارٹی واپسی، افتخار نذیر اور بھائی خاموش، کارکنوں کی تردیدیں، سیاسی قیاس آرائیاں تیز

ملتان ( قوم پولیٹیکل سیل) خانیوال کی تحصیل جہانیاں سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری افتخار نذیر، ان کے بھائی مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ضیا الرحمٰن اور سابق رکن اسمبلی حاجی عطا الرحمٰن کی پیپلزپارٹی میں ممکنہ واپسی سے متعلق اطلاعات نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہےتاہم ان اطلاعات کا سب سے زیادہ قابلِ توجہ پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ تینوں بھائیوں کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی واضح، براہِ راست اور کھل کر تردید سامنے نہیں آئی۔ سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی میں شمولیت یا آئندہ انتخابات پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑنے سے متعلق اطلاعات بے بنیاد ہیں تو چوہدری افتخار نذیر اور ان کے دونوں بھائی خود سامنے آکر اس کی دوٹوک تردید کیوں نہیں کرتے؟ ذرائع کے مطابق ان اطلاعات کے بعد ان کے بعض قریبی کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے مختلف سطح پر تردیدیں اور وضاحتیں سامنے لائی جا رہی ہیںتاہم خود چوہدری افتخار نذیر، ضیا الرحمٰن اور حاجی عطا الرحمٰن کی جانب سے کسی واضح بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کی پیپلزپارٹی کی قیادت سے کوئی سیاسی مفاہمت، رابطہ یا مستقبل کی انتخابی شراکت داری نہیں ہے۔ یہی خاموشی اب سیاسی حلقوں میں سب سے بڑا سوال بن گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تینوں بھائی مسلم لیگ ن کے ساتھ مکمل طور پر سیاسی طور پر مطمئن ہیں اور پیپلزپارٹی میں واپسی کی اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں تو ان کے لیے خود ایک مختصر اور واضح بیان کے ذریعے ان خبروں کی تردید کرنا مشکل امر نہیں لیکن اس کے بجائے کارکنوں کی سطح پر وضاحتیں سامنے آنے سے معاملہ مزید پراسرار ہوگیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی اہم سیاسی جماعت میں شمولیت یا جماعت تبدیل کرنے کا فیصلہ معمولی سیاسی پیش رفت نہیں ہوتا خصوصاً ایسے وقت میں جب کسی سیاسی خاندان کے بارے میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہوں کہ وہ موجودہ جماعت کے بجائے آئندہ انتخابات کسی دوسری جماعت کے پلیٹ فارم سے لڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں براہِ راست تردید یا تصدیق ہی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کارکنوں سے تردیدیں کیوں کروائی جا رہی ہیں جبکہ خود مرکزی سیاسی کردار خاموش ہیں؟ کیا تینوں بھائی واقعی پیپلزپارٹی میں واپسی کے امکان کو مسترد کرتے ہیں یا سیاسی رابطوں اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی اعلان نہیں کرنا چاہتے؟ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کے ساتھ کوئی رابطہ یا سیاسی مفاہمت نہیں تو اس کی کھل کر تردید کرنے میں کیا امر رکاوٹ بن رہا ہے۔ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی زیر گردش ہیں کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے اس سیاسی گروپ کے اندر مسلم لیگ ن کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چوہدری افتخار نذیر اپنے قریبی حلقوں میں مسلم لیگ ن کی حکومت اور بالخصوص ملکی معاشی و انتظامی صورتحال کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور مبینہ طور پر یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کی سیاسی کشش موجودہ صورتحال کے باعث متاثر ہوسکتی ہے۔ ادھر پیپلزپارٹی کے ساتھ مبینہ اندرونی رابطوں اور مستقبل کی سیاسی صف بندی کی اطلاعات نے مسلم لیگ ن کے مقامی حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر چوہدری افتخار نذیر اور ان کے بھائی مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں تو انہیں خود سامنے آکر اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے تاکہ کارکنوں اور ووٹرز میں پائی جانے والی بے یقینی ختم ہوسکے۔ دوسری صورت میں ان کی خاموشی اور صرف کارکنوں کی جانب سے تردیدیں سیاسی قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دیتی رہیں گی۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ کارکن کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ افتخار نذیر، ضیا الرحمٰن اور حاجی عطا الرحمٰن خود اس معاملے پر کھل کر کیا کہتے ہیں؟ سیاسی حلقوں میں ان تینوں بھائیوں کے واضح موقف کا انتظار کیا جا رہا ہے کیونکہ ایک طرف پیپلزپارٹی میں ممکنہ شمولیت کی اطلاعات مسلسل زیر گردش ہیں اور دوسری طرف خود متعلقہ شخصیات کی جانب سے تاحال کوئی ایسی دوٹوک تردید سامنے نہیں آئی جس سے ان قیاس آرائیوں کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں