کسی بھی ریاست کی بقا اور استحکام محض بلند و بانگ دعووں یا پرشکوہ عمارتوں سے نہیں، بلکہ اس کی انتظامی رگوں میں دوڑنے والی فعالیت سے ناپا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت جن معاشی و سماجی بحرانوں کے بھنور میں ہے، ان کی بنیادی جڑ دراصل وسائل کی نایابی نہیں بلکہ وہ بوسیدہ اور غیر لچکدار حکمرانی کا ماڈل ہے جو وقت کے تقاضوں کا ساتھ دینے سے مکمل قاصر ہو چکا ہے۔ غیر معمولی رفتار سے بڑھتی آبادی، بے ہنگم پھیلتے شہری مراکز اور لامحدود جغرافیائی حدود نے پرانے صوبائی فریم ورک کو مفلوج کر دیا ہے۔ کروڑوں شہریوں کے فیصلے محض ایک دور دراز صوبائی دارالحکومت میں قید رکھنے کی ضد نے پسماندہ اضلاع کو بنیادی حقوق اور ترقی کے ثمرات سے عملاً محروم کر رکھا ہے۔عصری پبلک ایڈمنسٹریشن کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ حکومت جتنی عوام کی دہلیز کے قریب ہوگی، نتائج اتنے ہی شفاف اور فوری برآمد ہوں گے۔ موجودہ بڑے اور بوجھل صوبائی نظام نے طاقت اور اختیارات کو چند مخصوص ہاتھوں اور شہروں میں مرتکز کر دیا ہے۔ ایک پسماندہ یا دور افتادہ ضلع کے باسی کو ہسپتال میں بنیادی علاج، ڈگری و اراضی کی تصدیق، یا معمولی سرکاری دفتری کام کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر کا صبر آزما سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ فاصلہ نہ صرف عام آدمی کے وقت اور مالی وسائل کو نگل جاتا ہے بلکہ ریاست اور شہری کے مابین بداعتمادی اور مایوسی کی خلیج کو گہرا کرتا ہے۔ جب انتظامی اکائیاں چھوٹی اور چست ہوں گی تو فنڈز کا ضیاع رکے گا، بیوروکریسی کا سست رویہ ختم ہوگا اور عوامی مسائل کا حل مقامی سطح پر ممکن ہو سکے گا۔اس اہم قومی اصلاحات کے عمل کو کسی بھی صورت لسانی، نسلی یا گروہی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ اس کی بنیاد خالصتاً انتظامی سہولت، آبادی کے حجم، جغرافیائی تسلسل اور معاشی خود انحصاری جیسے غیر متنازع اصولوں پر استوار ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ملک کی موجودہ انتظامی ڈویژنز کو آئینی فریم ورک کے تحت بااختیار صوبوں کا درجہ دینا سب سے محفوظ اور قابلِ عمل راستہ ہے۔ جب تمام خطوں کو یکساں اصولوں کے تحت اپنے وسائل، ترجیحات اور بجٹ کا اختیار ملے گا تو علاقائی تعصبات اور احساسِ محرومی کی جڑیں خودبخود کٹ جائیں گی۔یہ سیاسی واویلا مکمل طور پر بے بنیاد ہے کہ نئی اکائیوں سے وفاق کمزور یا غیر مستحکم ہو جائے گا۔ جدید پولیٹیکل سائنس اور عالمی تاریخ گواہ ہے کہ جب صوبے رقبے اور آبادی میں حد سے زیادہ بڑے اور غیر متوازن ہو جائیں تو وہی دراصل مرکز گریز رویوں اور باہمی کھنچاؤ کی وجہ بنتے ہیں۔ امریکہ، ترکی، بھارت اور نائجیریا جیسے ممالک نے آبادی کے بڑھتے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے وقتاً فوقتاً نئے صوبے اور ریاستیں تشکیل دیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کا ٹیکس نیٹ اور آمدن بڑھی بلکہ وفاقی اکائیوں کا باہمی اعتماد اور قومی یکجہتی بھی مضبوط ہوئی۔ چھوٹی، خود کفیل اکائیاں دراصل وفاق کی عمارت کو مضبوط تر کرتی ہیں۔اب وقت روایتی حیلے بہانوں، جمود پسند رویوں اور عارضی پیوند کاری سے نکلنے کا ہے۔ آبادی کے اس عظیم الجثہ بوجھ کے ساتھ اس پرانے نوآبادیاتی نظام کو مزید کھینچنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ملک کو موجودہ انتظامی فلج سے نکالنے اور گڈ گورننس کے قیام کا واحد، پائیدار اور حتمی راستہ نئے انتظامی صوبوں کا قیام ہے۔ پالیسی سازوں کو سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس ناگزیر اصلاحاتی ایجنڈے کو قومی ترجیح بنانا ہوگا تاکہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے مٹیں اور پاکستان ایک مستحکم، بااختیار اور خوشحال مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکے۔







