رحیم یارخان(نمائندہ خصوصی)محکمہ ایجوکیشن رحیم یارخان کا کارنامہ ،ضلع رحیم یارخان میں 500 سے زائد پرائیویٹ تعلیمی ادارے غیر رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف،پرائیویٹ اسکولوں کی رجسٹریشن کیلئےاسائمنٹ پر کام کرنیوالے کلرکوں کی موجیں،فائلیں جمع کرواؤ ،مٹھی گرم کرو اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے چلاؤ،چیف ایگزیکٹو آفس میں آج بھی 400 سے زائد پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کیلئے فائلیں جمع،سرکاری فیس 3000 سے 5000 تک مقرر جبکہ کلرک فی سکول کی رجسٹریشن کیلئے 50ہزار سے 1 لاکھ روپے طلب کر نے لگے،ذرائع کا انکشاف،سکولوں کی رجسٹریشن کیلئے 2023 سے فائلیں جمع کر وا رکھی ہیں 3 سی ای اوز تبدیل ہوچکے مگر پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن نہیں ہو سکی،کلرک حضرات لاکھوں روپے رشوت طلب کر رہے ہیں،پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا انکشاف۔الزامات بے بنیاد ہیں”علم فروش”مافیا عرصہ دراز سے غیر رجسٹرڈ سکول چلا رہے ہیں جن کی فہرست مرتب کر لی گئی ہے اب انکے خلاف کاروائیاں ہونگی۔ایجوکیشن حکام۔تفصیل کے مطابق ضلع رحیم یارخان میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے معاملے نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں 500 سے زائد پرائیویٹ تعلیمی ادارے تاحال غیر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ رجسٹریشن کے لیے 400 سے زائد فائلیں چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے دفتر میں جمع ہونے کے باوجود طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعدد سکول مالکان نے اپنی رجسٹریشن کے لیے 2023ء سے فائلیں جمع کرا رکھی ہیں، لیکن تین چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی تبدیلی کے باوجود ان فائلوں پر فیصلہ نہ ہو سکا، اس صورتحال نے پرائیویٹ سکول مالکان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور محکمہ تعلیم کے رجسٹریشن نظام کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے بعض رہنماؤں اور ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ رجسٹریشن کے لیے سرکاری فیس تقریباً 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک مقرر ہونے کے باوجود بعض متعلقہ کلرک مبینہ طور پر فی سکول 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کا مطالبہ کرتے ہیں۔سکول مالکان کے مطابق انہیں مبینہ طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر اضافی رقم ادا نہ کی گئی تو فائل طویل عرصے تک دفتر کے مختلف مراحل میں پھنسی رہے گی۔تحقیقاتی طور پر سامنے آنے والے دعووں کے مطابق متعدد سکولوں کی رجسٹریشن فائلیں 2023ء سے مختلف مراحل میں زیر التوا ہیں۔ اس دوران محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران تبدیل ہوتے رہے، تاہم فائلوں کے التوا کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایک سکول انتظامیہ تمام مطلوبہ دستاویزات، فیس اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرکے فائل جمع کرا دیتی ہے تو اس کی رجسٹریشن کا فیصلہ کئی سال تک کیوں نہیں ہو پاتا؟اور اگر فائل میں کوئی قانونی یا تکنیکی کمی موجود ہے تو سکول انتظامیہ کو بروقت تحریری طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا؟پرائیویٹ سکولز سے وابستہ بعض نمائندوں کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے عمل میں غیر ضروری تاخیر نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں سکول مالکان کو فائل جلد نمٹانے کے لیے مبینہ طور پر غیر سرکاری ادائیگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تاہم ان الزامات کی آزادانہ سرکاری سطح پر تصدیق ضروری ہے۔ اگر محکمہ تعلیم کے ریکارڈ میں موجود فائلوں، درخواستوں، سرکاری فیس کی رسیدوں، اعتراضات اور فائل موومنٹ کا آڈٹ کیا جائے تو یہ واضح ہو سکتا ہے کہ کتنی درخواستیں واقعی نامکمل ہیں، کتنی قانونی اعتراضات کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں اور کتنی فائلیں محض دفتری تاخیر کا شکار ہیں۔دوسری جانب ایجوکیشن حکام نے مبینہ رشوت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بعض عناصر عرصہ دراز سے غیر رجسٹرڈ سکول چلا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے اداروں کی فہرست مرتب کر لی گئی ہے اور قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے غیر رجسٹرڈ سکولوں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔محکمہ تعلیم کا یہ مؤقف اس معاملے کو مزید اہم بنا دیتا ہے کہ اگر سینکڑوں ادارے غیر رجسٹرڈ ہیں تو ان کی نشاندہی اور کارروائی کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی رجسٹریشن کی درخواستوں کو بروقت نمٹانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟اس پورے معاملے میں چند بنیادی سوالات کا جواب ناگزیر ہو گیا ہے:2023ء سے زیر التوا فائلوں کی مکمل تعداد کتنی ہے؟کتنی درخواستیں قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے مسترد یا واپس کی گئیں؟کتنی فائلیں مکمل ہونے کے باوجود زیر التوا ہیں؟سرکاری رجسٹریشن فیس کے مقابلے میں اضافی رقم طلب کرنے کی شکایات پر کیا کارروائی ہوئی؟کیا رجسٹریشن برانچ کے اہلکاروں کے اثاثوں اور مالی معاملات کا کوئی داخلی آڈٹ کیا گیا؟تین سی ای اوز کی تبدیلی کے باوجود فائلوں کا بیک لاگ ختم کیوں نہ ہو سکا؟اگر 500 سے زائد سکول واقعی غیر رجسٹرڈ ہیں تو محکمہ تعلیم نے ان کے خلاف بروقت کارروائی کیوں نہیں کی؟پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن ایک قانونی و انتظامی عمل ہے، اسے کسی بھی صورت غیر ضروری تاخیر یا مبینہ غیر سرکاری ادائیگیوں سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔ اگر سکول واقعی غیر رجسٹرڈ ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن اگر ان کی فائلیں برسوں سے محکمہ تعلیم کے دفاتر میں پڑی ہیں تو پہلے فائلوں کے التوا کی ذمہ داری اور اس کی وجوہات بھی سامنے لانا ضروری ہیں۔تعلیمی حلقوں اور پرائیویٹ سکول مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان اور اعلیٰ محکمہ تعلیم کے حکام غیر جانبدارانہ انکوائری کمیٹی تشکیل دیں، 2023ء سے زیر التوا تمام فائلوں کا ریکارڈ طلب کیا جائے، ہر فائل کی موجودہ حیثیت آن لائن یا تحریری طور پر ظاہر کی جائے اور رشوت طلب کرنے کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں۔







