کراچی: ملک میں 9 روزہ گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال کے باعث برآمدی شعبوں کو تقریباً 450 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
برآمدی شعبوں سے وابستہ نمائندوں کے مطابق طویل ہڑتال کے نتیجے میں فیکٹریوں اور گوداموں سے برآمدی کنٹینرز کو کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم تک پہنچانے کا عمل شدید متاثر ہوا، جس سے برآمدی کارگو کی ترسیل تقریباً رک کر رہ گئی۔
برآمدی ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ 8 اگست 2026 سے شروع ہونے والی ہڑتال کے دوران متعدد کنٹینرز مقررہ وقت پر بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکے، جس کے باعث شپنگ بکنگ متاثر، منسوخ یا اگلے جہازوں پر منتقل ہوئی، جبکہ ڈیٹینشن، ڈیمریج اور اسٹوریج چارجز بھی عائد ہوئے۔
ان کے مطابق ہڑتال کے باعث روزانہ تقریباً 50 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوا، جس کے نتیجے میں 9 روز کے دوران مجموعی نقصان کا تخمینہ تقریباً 450 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
برآمد کنندگان نے بتایا کہ ہڑتال کے بعد شپنگ لائنز نے پاکستان سے برآمدی کارگو کے لیے دستیاب شپنگ اسپیس کم کردی، جس کے باعث فریٹ اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی مغربی ساحل کے لیے فی کنٹینر فریٹ تقریباً 1,800 ڈالر سے بڑھ کر 8,500 ڈالر جبکہ امریکی مشرقی ساحل کے لیے 1,800 ڈالر سے بڑھ کر 8,000 ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ مختلف سرچارجز اور دیگر ایڈجسٹمنٹس کے تحت فی کنٹینر مزید 1,000 ڈالر تک اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
برآمدی نمائندوں کا کہنا ہے کہ فریٹ میں 300 فیصد سے زائد اضافہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، کیونکہ اس سے منافع کی شرح متاثر ہونے کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی مسابقتی حیثیت بھی کم ہوسکتی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صرف پالیسی اعلانات اور مراعات پر انحصار کرنے کے بجائے ایک مسلسل، قابلِ اعتماد اور عالمی سطح پر مسابقتی برآمدی لاجسٹکس نظام یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے بحران سے برآمدی شعبے کو محفوظ رکھا جاسکے۔







