ستھرا پنجاب کرپشن کیسز کو اچانک بریک، گرفتار افسران کو ریلیف کا امکان

ملتان ( خصوصی رپورٹر) ستھرا پنجاب ایجنسی میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کے کیسز پر کارروائیاں ٹھپ؟ گرفتار افسران کو ریلیف، مزید گرفتاریاں نہ ہونے کا امکان ۔ تفصیل کے مطابق ستھرا پنجاب ایجنسیوں اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں میں کروڑوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری اینٹی کرپشن کارروائیوں کے اچانک رکنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لاہور سے اعلیٰ حکام کی جانب سے اینٹی کرپشن افسران کو مبینہ طور پر ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ستھرا پنجاب ایجنسی / ویسٹ منیجمنٹ کمپنیوں میں کرپشن کے کیسز میں مزید گرفتاریاں نہ کی جائیں، جبکہ پہلے سے گرفتار افسران کو بھی ریلیف دینے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں ستھرا پنجاب ایجنسیوں، ویسٹ منیجمنٹ کمپنیوں کے مالی و انتظامی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر اینٹی کرپشن کی جانب سے مختلف مقامات پر تحقیقات اور کارروائیاں شروع کی گئی تھیں۔ ملتان میں کمپنی سیکرٹری کبیر خان سمیت 7 افراد جبکہ ڈیرہ غازی خان میں بھی تین افسران کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، تاہم اب ان کارروائیوں کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح سے مبینہ طور پر اینٹی کرپشن حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ ستھرا پنجاب سے متعلق مزید کارروائیاں اور گرفتاریاں فی الحال روک دی جائیں، جبکہ گرفتار افسران کو بھی قانونی طریقہ کار کے تحت ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق کارروائیوں کو روکنے کی مبینہ وجہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ’’برین چائلڈ‘‘ منصوبے ستھرا پنجاب کے بارے میں مسلسل سامنے آنے والی کرپشن کی خبروں سے منصوبے کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر ستھرا پنجاب سے متعلق مبینہ کرپشن کیسز میں تحقیقات اور گرفتاریاں روک دی جاتی ہیں تو اس سے پہلے گرفتار کیے گئے افسران کو بھی ریلیف ملنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جبکہ زیرِ تفتیش دیگر معاملات میں بھی کارروائی آگے نہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس حوالے سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مختلف ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں میں مالی بے ضابطگیوں کے شواہد کی بنیاد پر مقدمات اور گرفتاریاں کی گئیں تو تحقیقات کو درمیان میں روکنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

شیئر کریں

:مزید خبریں