ملتان (کرائم سیل) خانیوال کی تحصیل جہانیاں سے رکن قومی اسمبلی چوہدری افتخار نذیر اور ان کے بھائی رکن صوبائی اسمبلی ضیاء الرحمٰن کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی کوششوں کے حوالے سے روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل میں منظر عام پر لائی گئی تفصیلات ضلع بھر میں ٹاک آف دی ٹاؤن رہیں اور دو روز قبل معطل کیے جانے والے چوہدری افتخار نذیر گروپ کے قریبی ساتھی اور کارکن مختلف محکموں کے ملازمین کی معطلی کی وجوہات کی خبر شائع ہونے پر انہیں پتہ چلا کہ اصل معاملات کیا ہیں اور انہیں کیوں ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان تینوں بھائیوں کا پینل مسلم لیگ کا امیدوار تھا جن میں سے چوہدری افتخار نذیر قومی اسمبلی کی نشست جیت گئے جب کہ ان کے بھائی ضیاء الرحمٰن صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیت گئے البتہ ان کے تیسرے بھائی اور سابق ایم پی اے حاجی عطاء الرحمٰن کی ساکھ کو سدرہ سلیم نامی طالبہ کا کیس لے کر ڈوب گیا اور ان کا سیاسی بھرم تباہ کر گیا۔ شاہدرہ لاہور کی رہنے والی سدرہ سلیم کے معاملے پر ایک نجی یونیورسٹی جس کی ایجوکیشن کی حوالے سے اچھی شہرت ہے، کی پارٹنر شپ سے بھی حاجی عطاء الرحمٰن کو علیحدہ کر دیا گیا تھا اور گزشتہ عام انتخابات میں سدرہ سلیم کے حوالے سے قومی اخبارات میں شائع شدہ خبریں شہر میں ٹکٹوں کی طرح فرض کے طور پر فارورڈ اور تقسیم کی گئیں۔ ان کے مخالف امیدوار چوہدری خالد جاوید آرائیں نے انتخابی مہم کے دوران ہر جلسے میں اعلانیہ طور پر کہا کہ اپنی عزتیں بچانی ہیں تو حاجی عطاء الرحمٰن کا بائیکاٹ کرو تو ان کی یہ انتخابی مہم انتہائی کارگر ثابت ہوئی اور وہ 13 ہزار سے زائد ووٹوں کی لیڈ سے تمام تر سہولت کاری اور بے پناہ رقم خرچنے کے باوجود شکست کھا گئے۔ بتایا گیا ہے کہ سدرہ سلیم کیس کے بعد حاجی عطاء الرحمٰن کسی بھی حوالے سے کامیابی حاصل نہ کر سکے اور عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال نہ کروا سکے اس لیے اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی چوہدری افتخار نذیر اور دوسرے بھائی ضیاء الرحمان کی فراہم کردہ بیساکھیوں پر کھڑے ہیں اور ان کا اس وقت پروفیسر جہانگیر نامی واحد ساتھی رہ گیا ہے جو ان کی اسی جوش و جذبے سے خدمت کر رہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ پارٹی حاجی عطاء الرحمٰن کے علاوہ باقی دونوں بھائیوں کو شامل کر لے گی جبکہ عطاء الرحمٰن کے معاملے میں پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی بہت سے تحفظات تھے جس کی وجہ سے بات سرے نہ چڑھ سکی۔ یاد رہے کہ سدرہ سلیم کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد حاجی عطاء الرحمٰن فوری طور پر پاکستان چھوڑ کر دبئی بھاگ گئے تھے تاہم بعد ازاں چوہدری افتخار نزیر کی کوششوں سے ان کی بمشکل جان بخشی ہوئی کیونکہ چوہدری افتخار نذیر قومی اسمبلی کی ڈیفنس کمیٹی کے ممبر تھے اور انہوں نے اپنے روابط کو انتہائی موثر انداز میں استعمال کیا۔ اس دور میں شفیق نامی ایک آفیسر جو کہ اب ملتان میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں، نے حاجی عطاء الرحمٰن کو بچانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔







