پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو 2 ارب ڈالر سے زائد نقصان کا دعویٰ

اسلام آباد: پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارت کی بڑی ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور ورلڈ فلائٹ انفارمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق ایئر انڈیا، انڈیگو، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر اور اسپائس جیٹ اس پابندی سے نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرسکنے کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو 2 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے، جبکہ ہر ہفتے تقریباً 800 بھارتی پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔ دہلی کا اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مراکز میں شامل ہے، جہاں ہفتہ وار تقریباً 640 پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔
فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو متبادل اور طویل فضائی راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کے دورانیے میں ایک سے تین گھنٹے تک اضافہ ہوگیا ہے۔ طویل روٹس کے نتیجے میں ایندھن، لینڈنگ، ٹیک آف اور پارکنگ کے اخراجات بڑھنے کے ساتھ اضافی عملے اور دیگر آپریشنل اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور خلیجی فضائی راستوں میں پیدا ہونے والی مشکلات نے بھی بھارتی ایئرلائنز کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ ایران، امریکا کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث بھارتی فضائی آپریشنز کو مزید دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ رواں سال مزید 600 ملین ڈالر کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بھارتی ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے نے بھی ایئرلائنز کے مالی نقصان میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ مسلسل پابندیوں، طویل پروازوں اور اضافی اخراجات کے باعث بھارتی فضائی کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی ایئرلائنز پر اس پابندی کے نسبتاً محدود اثرات مرتب ہوئے ہیں اور بھارتی فضائی حدود استعمال کرنے والی چند پاکستانی پروازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی پابندی ستمبر 2026 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوٹم کے تحت بھارتی مسافر طیاروں کے ساتھ ملٹری اور کارگو طیارے بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرسکیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں