ملتان (وقائع نگار) 19 ارب کی ٹینڈر منسوخی کے بعد پنجاب کے تدریسی ہسپتالوں کے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مریضوں کے بحران سے دوچار کم ریٹ دینے والی کمپنیوں کو ٹیکنیکل بنیادوں پر آؤٹ کر دیا گیا جبکہ زیادہ ریٹ دینے والی من پسند کمپنیوں کو نوازنے کے الزامات،ٹینڈر منسوخی کے باوجود ذمہ داران کا تعین نہ کیا جا سکا محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کی جانب سے سنٹرل پروکیورمنٹ کے نام پر 19 ارب روپے کی ٹینڈر کی منسوخی نے پنجاب بھر کے تدریسی ہسپتالوں میں شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔ یہ ٹینڈر سرجیکل آلات اور ڈسپوزیبل اشیاء کی خریداری کے لیے جاری کیا گیا تھا، مگر مبینہ کرپشن اور افسر شاہی کے لالچ کی وجہ سے اسے منسوخ کر دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق، محکمہ نے خود ہی ٹینڈر کا عمل شروع کیا اور کم ریٹ دینے والی کمپنیوں کو تکنیکی بنیادوں پر باہر کر کے من پسند کمپنیوں کو فیور کیا گیا۔ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمتوں کے باوجود انہی کمپنیوں کو آرڈر دینے کی کوشش کی گئی، جس پر حکومت پنجاب نے نوٹس لیا اور محکمہ نے ٹینڈر کینسل کر دیا ۔صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین طیاب راشد اور محمد سرفراز ڈوگر نے تحریک التواے کار جمع کراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ٹینڈر کی منسوخی اربوں روپے کی کرپشن کا پردہ ہے، جس کا مقصد اس بڑے ٹھیکے کو دوبارہ من پسند کمپنیوں کو دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منسوخی سے ہسپتالوں میں سرجیکل ڈسپوزایبلز کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور ہزاروں مریض مشکلات کا شکار ہیں .ذرائع کے مطابق، سنٹرل پروکیورمنٹ کے خاتمے کے بعد تدریسی ہسپتال مجبوراً لوکل پرچیز (LPDD) کے ذریعے مہنگی اشیاء خرید رہے ہیں، جس سے مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے . ایک رپورٹ کے مطابق 57 فیصد خریداریاں لوکل پرچیز کے ذریعے ہوئیں، جو پالیسی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ادھر سرکاری اسپتالوں پر قرضوں کا بوجھ 10 ارب روپے تک جا پہنچا ہے، جس کی وجہ سے میڈیکل سٹورز بندش کے خطرے سے دوچار ہیں .حکومت پنجاب نے تو اس معاملے پر ایکشن لیا، مگر اب تک سنٹرل پرچیزنگ کے ذمہ داران کا تعین نہیں ہو سکا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نرگس فیض ملک نے بھی اس حوالے سے اسمبلی میں تحریک پیش کی، جس میں ایک ہی پروڈکٹ کو دو محکموں کی جانب سے مختلف قیمتوں پر خریدنے پر 65 کروڑ روپے کے ممکنہ ضیاع کا انکشاف کیا گیا۔. اسکے علاوہ سرکاری اسپتالوں میں 128 سلائس سی ٹی سکیننگ جیسے معاہدوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں ۔دوسری طرف پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے مالی بے ضابطگیوں پر 9 تدریسی ہسپتالوں سے وضاحت طلب کر لی ہے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کی 19 ارب روپے کی ٹینڈر منسوخی کے باعث صوبے کے سرکاری تدریسی ہسپتال بحران کا شکار ہیں۔ اربوں روپے کے ممکنہ کرپشن اسکینڈل کے باوجود تفتیش شروع نہ ہونا اور لوکل پرچیز کے ذریعے مہنگی خریداریاں مریضوں کیلئے نئی مصیبت بن گئی ہیں۔







