ملتان ( شیخ نعیم سے)پنجاب میں سرکاری اداروں میں شفافیت کو فروغ دینے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن نے اپنی نگرانی اور تحقیقات کا دائرہ مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملتان، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی بہاولپور، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں مختلف سرکاری محکموں کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کی خصوصی ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوامی شکایات، خفیہ اطلاعات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ان افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جن پر رشوت لینے، اختیارات کے ناجائز استعمال، سرکاری وسائل میں بے ضابطگی یا شہریوں کو بلاوجہ تنگ کرنے کے الزامات ثابت ہوں۔اطلاعات ہیں کہ مختلف محکموں میں نگرانی کا عمل پہلے سے زیادہ منظم کیا جا رہا ہے اور شکایات کی جانچ کے لیے جدید طریقۂ کار اختیار کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بے گناہ ملازم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور بدعنوان عناصر قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق احتساب کا عمل بلاامتیاز اور شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔ اسی مقصد کے لیے مختلف اضلاع میں متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام سے موصول ہونے والی شکایات پر بروقت کارروائی کریں اور ہر کیس کو قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹائیں قانونی ذرائع کے مطابق- کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی صرف گرفتاریوں سے نہیں بلکہ مضبوط تفتیش، شفاف عدالتی عمل اور ادارہ جاتی اصلاحات سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر احتساب کا عمل مستقل مزاجی سے جاری رہا تو سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہونے، وسائل کے ضیاع میں کمی آنے اور عوامی اعتماد میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔شہری اور سماجی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ احتساب کا دائرہ تمام سرکاری محکموں تک یکساں طور پر بڑھایا جائے، کارروائیوں میں کسی قسم کی سفارش یا امتیاز نہ ہو اور ہر سرکاری ملازم کو قانون کے مطابق صفائی کا پورا موقع دیا جائے۔ذرائع کے مطابق- آئندہ ہفتوں میں بھی مختلف اضلاع میں نگرانی اور تحقیقات کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم کسی بھی کارروائی کا حتمی فیصلہ دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مہم شفاف، غیر جانبدار اور مسلسل انداز میں جاری رہی تو سرکاری دفاتر میں بدعنوانی کے رجحان میں کمی اور عوامی خدمات کے معیار میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔







