رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)’’قوم‘‘میں خبروں کی اشاعت،نیب ملتان حرکت میں آگئی،تحصیل صادق آباد میں16 غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے قیام پر ڈپٹی کمشنر اور چیف آفیسر بلدیہ صادق آباد کو کال اپ نوٹس جاری،تمام تر تفصیلات اور ریکارڈ طلب کرلیا، ضلع رحیم یارخان میں 500 سے زائد غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں،کمرشل سینٹروں ،سوسائٹیوں اور ٹاؤنز کے قیام نے تہلکہ مچا دیا،ضلع کونسل،بلدیہ اور نقشہ برانچ میں ہلچل مچ گئی،چائنہ کٹر بلڈرز مافیا اور سہولت کار سرکاری افسران و ملازمین کے ہاتھ پاؤں پھولنا شروع ہوگئے،سرکاری افسران اور ملازمین نے بلڈر ز مافیا سے جان چھڑانے اور نوکریاں بچانے کیلئے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کیخلاف ’’اندر کھاتے‘‘آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا،افسران کو اعتماد میں لینے کیلئے کوششیں جاری،واضح رہے کہ’’قوم‘‘نے 10 جولائی اور 15 جولائی کو خبروں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی نشاندہی کی تھی۔تفصیل کے مطابق’’قوم‘‘کی حقیقت پر مبنی رپورٹنگ پر نیب ملتان نے ایکشن لیتے ہوئے رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد میں قائم 16 غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنررحیم یارخان ظہیر انور جپہ اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی صادق آباد ذوہیب لغاری کو کال اپ نوٹس جاری کرتے ہوئے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے مکمل ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ہے،ذرائع کے مطابق صادق آباد میں بلدیہ کے چیف آفیسر ذوہیب لغاری اور نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹروں کی مبینہ ملی بھگت سے چائنہ کٹر بلڈر مافیا حاجی خادم حسین سمیت دیگر بلڈرز نے 16 سے زائد غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں قائم کرکے کروڑوں اربوں روپے میں فروخت کردی ہیں جن کے مالکانہ حقوق،رجسٹریوں کیلئے شہری آج بھی شٹل کاک بنے ہوئے ہیں،ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بلڈنگ انسپکٹروں نے چائنہ کٹر بلڈرز مافیا سے لاکھوں کروڑوں کی رشوت،قیمتی پلاٹس بھی بطور رشوت لے رکھے ہیں اور مذکورہ ٹاؤنز کی رجسٹریشن کیلئے صرف ضلع کونسل،بلدیہ اور نقشہ برانچ میں فائلیں جمع ہیں جبکہ مذکورہ ہاؤسنگ اسکیمیں فروخت ہو چکی ہیں اور نقشے پاس تک نہیں ہوئے ۔معتبر سرکاری ذرائع اور انٹیلی جینس رپورٹس کے مطابق صادق آباد بدنام زمانہ چائنہ کٹر حاجی خادم حسین سمیت رحیم یارخان میں میاں غلام غوث اور میاں سجاد علی کی درجنوں ہاؤسنگ اسکیمیں،ٹاؤنز،ہاؤسنگ سوسائیٹیاں،کمرشل سینٹرقائم ہیں جن کی فروخت آج بھی جاری ہے ان مذکورہ ہاؤسنگ اسکیموں اور کمرشل سینٹروں کی باقاعدہ رجسٹریشن تک نہیں ہوئی ہے،ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ رحیم یارخان سمیت پورے ضلع رحیم یارخان میں تقریباً 500 سے زائد ہاؤسنگ اسکیمیں،کمرشل سینٹرز اور ٹاؤنز قائم ہیں جن کی جسٹریشن سے سے ہوئی ہی نہیں یاور مذکورہ اسکیمیں فروخت ہو چکی ہے،ذرائع نے بتایا کہ ضلع کونسل اور بلدیہ کے چیف افسران کو بلڈنگ انسپکٹرچونالگاتے ہیں ۔بلڈر مافیاز سےانڈرٹیبل ڈیلیں کر رکھی ہیں اور آن لائن رجسٹریشن سمیت مینول سسٹم فائلیں صرف نقشہ برانچ کی حد تک جمع ہیں اور 25 سے 30 ہزار روپے کی چالان بھر کے یہ فائلیں دفتری حد جمع ہوئی ہیں جبکہ انکی باقاعدہ منظوری نہ ہوسکی اور بدنام زمانہ بلڈر مافیا نے یہ فائلیں جمع کروا کے تقریبا50 سے زائد ٹاؤنز،ہاؤسنگ اسکیمیں اور کمرشل سینٹرز فروخت کر دئیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلڈر مافیا نے نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹروں کو اپنے مکروہ دھندے میں سلیپر پارٹنر بنا رکھا ہے اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں میں قیمتی کارنر پلاٹس،ہاؤسنگ اسکیموں میں لگژری بنگلے،کوٹھیاں بنا کر دے رکھی ہیں تاکہ انکے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی جا سکے،نیب ملتان کی جانب سے ڈپٹی کمشنررحیم یارخان اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی صادق آباد کو کال اپ نوٹس جاری ہونے کے بعد ضلع کونسل،بلدیہ اور نقشہ برانچ کے چیف افسران اور بلڈنگ انسپکٹروں میں تھرتھلی مچ گئی ہے،چائنہ کٹر بلڈر مافیا کے سرکاری سہولت کار افسران اور بلڈنگ انسپکٹروں نے بدنام زمانہ بلڈر مافیا سے جان چھڑانے ،اپنی نوکریاں بچانے اور افسران کی شاباشی حاصل کرنے کیلئے ضلع کونسل رحیم یارخان سے ملحقہ ایک سرکاری دفتر میں خفیہ بیٹھک کرتے ہوئے ’’اندرکھاتے‘‘غیر قانونی قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کیخلاف بڑے اور تابڑ توڑ آپریشن کرنےکا فیصلہ کرلیا ہے جس کیلئے افسران کو اعتما د میں لانے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔اس حوالے سے جب موقف جاننے کیلئے چیف آفیسر ضلع کونسل نصر اللہ ملک،چیف آفیسر بلدیہ رانا محمود سے رابطے کئے گئے تو انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں ضلع کونسل اور تحصیل کونسلوں کی حدود میں آنیوالے ہاؤسنگ سکیموں کی فہرستیں مرتب کی جار ہی ہیں جن کی رجسٹریشن مکمل ہوئی انہیں چھوڑ کر غیر قانونی و غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ اسکیموں کیخلاف آپریشن کیا جائے گا،غیر قانونی تعمیرات مسمار،ہاؤسنگ اسکیموں کے دفتر سیل کرکے رجسٹریوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے مالکان کیخلاف قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے مقامی پولیس اسٹیشنوں میں مقدمات کا اندراج کروایا جائیگا۔







