ملتان،بندبوسن(کورٹ رپورٹر،کرائم رپورٹر، نامہ نگار) اڈا بند بوسن کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت ملک حسنین بوسن کے اندھے قتل کیس کا فیصلہ بالآخر ایک سال سے زائد عرصے بعد سنا دیا گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج غلام فرید قریشی نے 15 جولائی 2026 کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عمران ولد حیات جوئیہ کو سزائے موت جبکہ شریک ملزم زین ولد اللہ ڈتہ جوئیہ کو عُمر قید کی سزا سنائی۔عدالت نے حکم دیا کہ ملزم محمد عمران کو تختہ دار پر لٹکایا جائےتاہم سزا پر عملدرآمد لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے توثیق سے مشروط ہو گا۔تفصیلات کے مطابق ملک حسنین بوسن 26 مئی 2025 کو معمول کے مطابق اپنے گھر سے واک کے لیے نکلے تھے تاہم واپس نہ لوٹے۔ان کی گمشدگی پر ان کے چچا زاد ملک سانول بوسن کی مدعیت میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا۔واقعے کے دو روز بعد موضع صدر پور کے قریب طاہر پور مائنر سے ملک حسنین بوسن کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ۔ تھانہ الپہ میں قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا۔تحقیقات کے دوران عمران ولد حیات جوئیہ اور زین ولد اللہ ڈتہ جوئیہ کو نامزد کیا گیا جنہیں گرفتار کرکے مزید تفتیش کی گئی۔تفتیشی عمل کے دوران تھانہ الپہ کے سب انسپکٹر ممتاز قریشی اور سی سی ڈی انسپکٹر راجہ اکبر نے اہم شواہد اکٹھے کیے، آلہ قتل برآمد کیا اور دیگر فرانزک و تکنیکی شواہد عدالت میں پیش کیے جنہیں استغاثہ کے مضبوط مقدمے کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ملزموں نے رقم کے لالچ میں حسنین بوسن کو قتل کر دیا تھا۔مجموعی طور پر 45 پیشیاں ہوئیں ۔ فریقین کے دلائل، گواہوں کے بیانات تفتیشی شواہد اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد عدالت نے 15 جولائی 2026 کو اپنا فیصلہ سنادیا۔عدالت نے مرکزی ملزم عمران ولد حیات جوئیہ کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت جبکہ شریک ملزم زین ولد اللہ ڈتہ جوئیہ کو عُمر قید کی سزا کا حکم دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم محمد عمران کو مقتول کے قانونی ورثاء کو 3 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو 6 ماہ قیدِ سادہ بھگتنا ہوگی۔عدالت نے ملزم کو دفعہ 201 کے تحت 3 سال قیدِ سادہ اور 50 ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی سنائی ہے، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 2 ماہ قیدِ سادہ بھگتنا ہو گی۔ شریک ملزم زین علی کو قتل کیس میں عمر قید اور 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئیں۔







