ملتان (رپورٹ: ناصر محمود شیخ)ملتان ریجن میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران گھریلو اور خانگی تنازعات خصوصاً میاں بیوی کے جھگڑوں اور ناچاقی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیف سٹی اور ہیلپ لائن 15 پر مجموعی طور پر 56 ہزار543خانگی جھگڑوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ گھریلو اختلافات ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ ہونے والے واقعات میں سے 18ہزار584مقدمات متعلقہ تھانوں میں درج کیے گئےجبکہ 37ہزار812کیسز میں پولیس اور متعلقہ حکام نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین کے درمیان صلح صفائی کرا دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے تنازعات تھے جنہیں قانونی کارروائی کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ متاثرین میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہےجو گھریلو ناچاقیوں، تشدد، ہراسانی اور دیگر خاندانی تنازعات کے باعث مدد کے لیے سیف سٹی اور ہیلپ لائن 15 سے رجوع کرتی رہیں۔ ماہرین سماجیات کے مطابق بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، بے روزگاری، گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ، عدم برداشت اور باہمی اعتماد میں کمی، میاں بیوی کے درمیان اختلافات میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے تحفظ، خاندانی مشاورت کے مراکز کے قیام، نفسیاتی رہنمائی اور مؤثر مصالحتی نظام کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ گھریلو تنازعات کو سنگین صورت اختیار کرنے سے پہلے ہی حل کیا جا سکے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ خواتین کے تحفظ اور خاندانی استحکام کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں تاکہ ایسے واقعات میں کمی لائی جا سکے اور معاشرے میں پرامن خاندانی ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔







