رحیم یار خان: چائنہ کٹر بلڈر مافیا کا راج، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی سنچری، کاروائی زیرو

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)سندھ کے بعد پنجاب میں چائنہ کٹر بلڈرز مافیا سرگرم ہوگیا،رحیم یارخان شہر سمیت ضلع بھر میں متعددغیر قانونی ٹاؤنز ہاؤسنگ سکیموں کا انکشاف،انٹیلی جنس اداروں نے ریکارڈ مرتب کرلیا،حکومتی خزانے کو اربوں کا نقصان،ضلع کونسل،میونسپل کمیٹی،نقشہ برانچ،رجسٹری برانچ،ریونیو ڈیپارٹمنٹ ،واسا،صاف پانی اتھارٹی ،واپڈا،سوئی گیس کے افسران،پٹواریوں،انسپکٹروں کی بلڈر ز مافیا سے انڈر ٹیبل ڈیل،لاکھوں کروڑوں میں ڈیلیں،غیر قانونی ٹاؤنز ہاؤسنگ اسکیمیں بغیر نقشہ پاس کروائے،سیوریج،سوئی گیس،واپڈا،واٹر سپلائی کی فیسوں کی ادائیگی کے بغیر فروخت کر دی گئی،نقشہ برانچ کے ہزاروں روپے تنخواہ لینے والا 14 ویں گریڈ کے افسران مالا مال،کروڑوں اربوں روپے کے کالے دھن ،کوٹھیوں،لگژری گاڑیوں کے مالک بن گئے،شاہانہ طرز زندگی ،ضلعی سطح سے تخت لاہور تک تعلقات ،افسران کاروائی کرنے کی بجائے کان کترانے لگے۔تفصیل کے مطابق صوبہ سندھ کے شہرکراچی کے بعد پنجاب کی ٹیل پر واقع ضلع رحیم یارخان میں بھی چائنہ کٹر بلڈر ز مافیا نے پنجے گاڑھ لئے،زرعی زمینوں کو اونے پونے داموں خرید کر ایک سے ڈیڑھ اور دو سے ڈھائی ایکڑوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں،ہاؤسنگ سوسائٹیاں،ٹاؤنز کاٹ سرکاری افسران کی مبینہ آشیر باد سے فروخت کئے جانے کے انکشاف نے شہر میں تھرتھلی مچا دی ہے۔معتبر سرکاری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ضلع رحیم یارخان تین بڑے بلڈرز مافیا حاجی خادم حسین،میاں سجاد اور میاں غوث نےمبینہ طورپر ضلع کے چاروں بڑے شہروں رحیم یار خان، صادق آباد، خانپور، لیاقت پور کے ساتھ ساتھ ظاہر پیر، ترنڈہ محمد پناہ، ترنڈہ سوائے خان، کوٹسمابہ، منٹھار، خانبیلہ، سردار گڑھ، اقبال آباد ، چوک بہادر پور، کوٹ سبزل، سنجر پور، احمد پور لمہ، چاچڑاں شریف، فتح پور کمال، ججہ عباسیاں، نواں کوٹ، پکا لاڑاں، امین آباد، جن پور، الہ آباد، فیروزہ، میانوالی قریشیاں، جیٹھہ بھٹہ، باغ و بہار، راجن پور کلاں اور محمد پور سمیت 100 کے قریب مختلف چھوٹے بڑے قصبات اور چکوک میں بنا کر بیچ دی ہیں اور مزید ہاؤسنگ اسکیمیں،کمرشل سینٹرز،ٹاؤنز اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا کر بیچنے میں مصروف عمل ہیں،ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ غیر قانونی و غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں اور کمرشل سنٹرز کی فروخت کا یہ دھندہ مختلف شہروں و قصبات کی میونسپل کمیٹیوں، ٹاون کمیٹیوں اور ضلع کونسل کے متعلقہ افسران خاص طور پر چیف آفیسرز اور بلڈنگ انسپکٹرز کی ملی بھگت سے جاری رہا، اس دوران واردات یہ ڈالی گئی کہ ہاؤسنگ اسکیموں و کمرشل سنٹرز کی تعمیر شروع کرتے وقت ان کی منظوری کی فائلز متعلقہ میونسپل ادارے میں جمع کروا دی گئیں، بلدیاتی قوانین کے مطابق متعلقہ ادارے چھ ماہ کے اندر فائلز منظور کرنے یا مسترد کرنے کے پابند ہیں لیکن لاکھوں کروڑوں روپے کی چمک کے ذریعے متعلقہ افسران نے فائلوں کو دس دس ، پندرہ پندرہ اور بیس بیس سال زیر کارروائی رکھا اور دوران چالاک و مکار بلڈرز پلاٹ بیچ کر اور قسطیں وصول کرکے غائب ہو گئے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پچھلے بیس پچیس برسوں میں درجنوں کے حساب سے چیف آفیسرز و بلڈنگ انسپکٹرز کروڑ پتی ہوگئے اور اس وقت ان کی منقولہ و غیر منقولہ جایدادوں کا بڑا حصہ ان کے رشتے داروں اور مختلف فرنٹ مینوں کے نام پر ہے اور ضلع رحیم یار خان میں تعینات رہنے والے ان کرپٹ افسران کی کوٹھیوں اور لگژری گاڑیوں کی مجموعی مالیت بھی اربوں روپے میں ہے،ذرائع نے بتایا کہ اربوں کھربوں روپے کے اس مکروہ دھندے میں صرف ضلع کونسل یا بلدیہ کے چیف افسران،نقشہ برانچ کے اہلکاران ہی شامل نہیں بلکہ واپڈا،سوئی گیس،پٹواری،رجسٹری برانچ،ریونیو ڈیپارٹمنٹ،صاف پانی اتھارٹی،محکمہ واسا کے افسران اور اہلکاران بھی شامل ہیں جو لاکھوں روپے کی مبینہ مٹھی گرم کرکے غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں،کمرشل سینٹروں،ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ٹاؤنز کو این او سی جاری کرتے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس اربوں کھربوں کے گورکھ دھندہ میں سب سے زیادہ مستفید ہونے والوں میں نقشہ برانچ کے گریڈ 14 کے انسپکٹرز ہیں جو ٹاؤن مافیا کے سلیپر پارٹنر ہونے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں،کمرشل سینٹروں،ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ٹاؤنز کی فائلیں جمع کرنے کی مد میں لاکھوں کروڑوں روپے کے قیمتی پلاٹس،نقدی رقم وصول کرتے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ ضلع کونسل رحیم یارخان اور بلدیہ رحیم یارخان کے بلڈنگ انسپکٹر جن کی تنخواہیں گریڈ کے حساب سے تقریباً50 ست 70 ہزار روپے ہیں وہ کروڑوں اربوں روپے کی بے نامی جائیدادوں جن میں کمرشل پلاٹس،قیمتی بنگلے اور کوٹھیاں،فارم ہاؤس،زرعی رقبے ،قیمتی لگژریاں گاڑیاں،لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی موبائلز شامل ہیں کے مالک ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ بااثر بلڈر مافیا کے سلیپر پارٹنر اور عرصہ دراز سے ایک ہی ضلع میں تعینات ان بااثر نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹروں نے ضلعی حکومت سے لے کر تحت لاہور تک تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور ہر ماہ لاکھوں روپے منتھلیاں اوپر تک پہنچائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان بااثر بلڈنگ انسپکٹروں کیخلاف کاروائی نہیں ہوتی اور نہ ہی چائنہ کٹر بلڈرز مافیا پر کوئی افسر ہاتھ ڈالتاہے۔اس حوالے سے بلڈرز حاجی خادم حسین،میاں غوث اور میاں سجاد علی کا موقف ہے کہ ان کے تمام ٹاؤنز ،ہاؤسنگ اسکیموں،کمرشل سینٹروں کی فائلیں رجسٹریشن کے لئے آن لائن اور نقشہ برانچ میں جمع ہیں اور کوئی بھی ٹاؤن حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کے بغیر فروخت نہیں کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ حکومت رجسٹریشن معاملات میں نرمی لائے اور رجسٹریوں پر عائد پابندی کو ختم کرے تاکہ کاروباری افراد کی مشکلات میں کمی ہو سکے۔جبکہ نقشہ برانچ کے حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں اور تعمیرات کیخلاف آپریشن جاری اور غیر قانونی تعمیرات کو گرا کر غیر رجسٹرڈ ٹاؤنز اور ہاؤسنگ اسکیموں کو سیل کرکے مالکان کیخلاف مختلف تھانوں میں مقدمات کا اندراج کروایا جا چکا ہے۔اس حوالے سے جب موقف جاننے کیلئے ضلع کونسل اور تحصیل کونسل رحیم یارخان کے چیف افسران نصر اللہ ملک اور رانا محمود سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ضلع رحیم یارخان میں 110 سے زائد اور تحصیل رحیم یار خان میں تقریبا 25 سے زائد ہاؤسنگ اسکیمیں،کمرشل سینٹرز،ٹاؤنز کو سیل کرکے رجسٹریوں،انتقالات پر پابندی عائد کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کردیا گیا اور مالکان کیخلاف ضلع بھر کے تھانہ میں مقدمات درج کروائے گئے ہیں،ضلع کونسل اور تحصیل کونسل کے افسران نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ و غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کمرشل سینٹروں میں مکانات دکانات خریدنے سے گریز کریں اور غیر قانونی ٹاؤنز اور ہاؤسنگ سکیموں کی نشاندہی کریں تاکہ انکے خلاف کاروائیاں عمل میں لائی جا سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں