مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر حکومت کا شدید ردعمل، پنجاب اسمبلی میں مزمتی قرارداد، کیسی معافی؟ جے یو آئی

اسلام آباد،لاہور (بیورورپورٹ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاک فوج اور شہداء سے متعلق بیان پر ملک بھر میں سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، مختلف وفاقی وزراء اور سیاسی رہنماؤں نے بیان کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی جوانوں کی وطن کیلئے قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ ہے، یہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری ہے۔اپنے بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاستدان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ شہدا پوری قوم کا فخر اور قومی غیرت کی علامت ہیں۔ وطن پر جان قربان کرنے والوں کی عظیم قربانیوں کو کسی دنیاوی پیمانے سے نہیں تولا جا سکتا اور شہدا کے بارے میں سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے الفاظ نے کروڑوں پاکستانیوں کے دل دکھائے ہیں، فوجی جوان تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن، قوم اور اپنے حلف کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہادت کے عظیم رتبے کو مالی معاوضے سے جوڑنا نہ انصاف ہے، نہ اخلاقی اقدار اور نہ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ، جبکہ شہداء کی قربانیوں کو سیاست کی نذر کرنا قابلِ مذمت ہے۔وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان شہدء اور ان کے اہلِ خانہ کی کھلی توہین ہے، شہادت تنخواہ سے نہیں بلکہ حب الوطنی، ایمان اور جذبۂ قربانی سے ملتی ہے، مولانا فضل الرحمٰن قوم اور شہداء کے اہلِ خانہ سے معافی مانگیں۔وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے بیان کو انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات شہداء کے اہلِ خانہ اور ہر محبِ وطن پاکستانی کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن فوری طور پر اپنا بیان واپس لیں اور پوری قوم سے معذرت کریں۔صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا اختیار ولی نے کہا کہ پاک فوج کے شہداء کے لیے تنخواہ کا بیانیہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ فہم ہے۔ کیا دنیا میں کوئی صرف پیسوں کے لیے اپنی جان قربان کرتا ہے؟رکن خیبرپختونخوا اسمبلی فرح خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان پاک فوج کی لازوال قربانیوں کو مجروح کرنے کی ناکام کوشش ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ ذرا ہوش سنبھال کر بات کریں، یہ فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ فوجی جوان روز ہماری حفاظت کی خاطر جانوں کے نذرانے دے کر اپنے ماں باپ اور ملک کو سرخرو کر رہے ہیں۔ شہدا کی قربانیوں کو پیسوں میں تولنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد نے کہا کہ پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کو کبھی تنخواہوں یا مادی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا، رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے کہا کہ ایسے ریمارکس شہداء کے خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا جذبات مجروح کرنے والا اقدام ہے، جبکہ سپاہیوں کی قربانیاں حب الوطنی، ایمان، فرض شناسی اور جذبۂ ایثار کا مظہر ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج عالم اسلام اور اقوام عالم میں پاکستان کی قدر و قیمت اور وقار افواج پاکستان کے طفیل ہے، پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیان کے خلاف ایک اور مذمتی قرارداد جمع کرا دی گئی۔قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن راحیلہ خادم حسین نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائی، جس میں شہداء وطن کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا، شہداء کی عظیم قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور انہیں کسی بھی مادی مفاد یا تنخواہ سے جوڑنا نامناسب ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ یا مالی مفاد سے جوڑنا ان کے بلند مرتبے اور اہل خانہ کے جذبات کے منافی ہےجبکہ شہادت ایثار، حب الوطنی، ایمان اور فرض شناسی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔متن کے مطابق شہداء کی قربانیوں کی اہمیت کم کرنے یا ان کی توہین کا باعث بننے والا ہر بیان قابلِ افسوس ہے۔ پنجاب اسمبلی پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سکیورٹی فورسز کے تمام شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور بھرپور اظہارِ ہمدردی کا اعادہ کرتی ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کس بات پر معافی مانگیں، معافی تو وہ مانگیں جنہوں نے لشکر بنانے کا کہا ہے۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے اس سوال پر کہ محمود اچکزئی کے بعد کیا مولانا فضل الرحمان پر بھی ایف آئی آر ہوگی، جواب میں کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایسی کونسی بات کی ۔ معافی کا مطالبہ تو اس بات پر کیا جانا چاہیے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ آپ خیبرپختونخوا میں متوازی لشکر بنا لیں اور لوگوں کا خود مقابلہ کریں، معافی تو ان کو مانگی چاہیے نہ کہ مولانا کو۔

پاکستان نے مدت سے قبل 47 کھرب قرض واپس کردیا، مشیر خزانہ

اسلام آباد(بیورورپورٹ)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے مختلف اقدامات کے ذریعے 47 کھرب 22 ارب روپے سے زائد کا سرکاری قرض مقررہ مدت سے پہلے واپس کر دیا ہے، جو ملکی تاریخ میں قرضوں کے بہتر انتظام کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا کہ حکومت نے حالیہ مرحلے میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی 279 ارب روپے مالیت کی قبل از وقت واپسی کی، جس کے بعد اب تک مجموعی طور پر 4.722 کھرب روپے کا قرض مدت مکمل ہونے سے پہلے ادا کیا جاچکا ہے۔انہوں نے اس اقدام کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا اور مسلسل قرض انتظامی آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معمول کی قرض ادائیگی نہیں بلکہ حکومت کی فعال حکمت عملی کا حصہ ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں