ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں ترقیاں روک کر بھرتیاں، ملازمین کا گورنر پنجاب سے رجوع

ملتان (سٹاف رپورٹر)گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ (GCWUS) میں طویل عرصے سے زیر التوا ترقیوں کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ملازمین نے گورنر پنجاب و چانسلر کو تیسری مرتبہ باضابطہ درخواست ارسال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی کئی ماہ سے زیر التوا ترقیوں پر فیصلہ کیے بغیر براہِ راست بھرتیوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس سے نہ صرف ان کے قانونی اور سروس حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ پورے تقرری کے عمل پر بھی سنگین قانونی سوالات جنم لے رہے ہیں۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملازمین پہلےبھی 14 مئی 2026 کو اپنی ابتدائی درخواست اور 22 جون 2026 کو یاددہانی کرا چکے ہیں مگر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس دوران یونیورسٹی انتظامیہ نے نئی اسامیوں پر براہِ راست بھرتیوں کا عمل شروع کر دیا ہےجبکہ ملازمین کا کہنا ہے کہ سروس رولز کے تحت مقررہ 50 فیصد پروموشن کوٹہ پہلے پورا کیا جانا چاہیے تھا۔درخواست گزاروں نے مزید مؤقف اختیار کیا ہے کہ یونیورسٹی میں Ex-Post Facto Approval کا معاملہ بھی تاحال چانسلر کی منظوری کا منتظر ہے اس کے باوجود تقرریوں کے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر مجاز اتھارٹی کی منظوری سے قبل بھرتیوں کو حتمی شکل دی گئی تو اس سے مستقبل میں قانونی تنازعات، انتظامی پیچیدگیوں اور موجودہ ملازمین کے حقوق کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ملازمین نے گورنر پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے یونیورسٹی کو ہدایت دیں کہ Ex-Post Facto Approval کے فیصلے اور زیر التوا ترقیوں کے معاملے کے نمٹنے تک بھرتیوں کے عمل کو حتمی شکل نہ دی جائے تاکہ شفافیت، قانون کی پاسداری اور ملازمین کے جائز سروس حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں