کوٹ ادو (نامہ نگار ) سات ماہ قبل شک کی بنیاد پر انعم بشیر اغوا کیس میں تھانہ سٹی پولیس کی زیر حراست غریب مزدو رکی موت معمہ بن گئی۔ پوسٹمارٹم رپورٹ اور پنجاب فرانزک رپورٹ میں تضاد کےبعد دوبارہ قبر کشائی میں مبینہ طورپر متوفی کے والد کو بھاری رقم کی پیشکش بھی کی گئی جو ٹھکرا دی گئی۔ اس سلسلے میں تفصیل کیمطابق تقریباً سات ماہ قبل کوٹ ادو تھانہ سٹی میں انعم بشیر نامی لڑکی کا ایک کیس درج ہواجسکی تفتیش سب انسپکٹر سعیدہ خالق کرر ہی تھیں۔ تفتیش کے دوران درجنوں لوگوں کو اٹھایا گیا جن میں ایک غریب محنت کش نائی عمران عرف مانی کو رات کے اندھیرے میں گھر پر پولیس ریڈ کرکے اٹھایا گیا اور دوران تفتیش عمران مانی کی موت واقع ہوگئی۔ وقوعہ کی رات پولیس نے ریسکیو 1122 والوں کو کال کی جو تھانہ سٹی کوٹ ادو پہنچی سی پی آر کیا مگر سانس بحال نہ ہوسکی۔لاش کو ٹی ایچ کیو ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کردی جب اطلاع ورثا کو پہنچی تو کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوگئے اور لاش سڑک پر رکھ کر سڑک بلاک کردی اور پولیس گردی کیخلاف احتجاج شروع کردیا۔ ڈی پی او، ڈی ایس پی موقع پر پہنچ گئے۔ حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے مقامی سیاستدانوں کو درمیان میں ڈالا گیا جنھوں نے ورثا سے مذاکرات کرکے لعش کا پوسٹمارٹم کرانے اور رپورٹ سامنے آنے پر کارروائی کرانے کی یقین د ہانی پر احتجاج ختم کرایا۔ واضح رہے پولیس حراست میں ملزم کی موت واقع ہونے پر پوسٹمارٹم ڈی ایچ کیو میں بنائی جانے والی ڈاکٹروں کی تین یا پانچ رکنی میڈیکل ٹیم پوسٹمارٹم کرتی ہے مگر پوسٹمارٹم تفتیشی سعیدہ خالق کے ڈاکٹر ماموں نے کیا اور رپورٹ میں موت ہارٹ اٹیک سےبتائی گئی۔ پنجاب فرانزک بھی اجزا کے نمونے لیکر چلی گئی ۔لعش کو دفنا دیا گیا۔ تفتیشی سعیدہ خالق اور دیگر پولیس اہلکاروں کیخلاف ایس پی انویسٹی گیشن اور ایف آئی آر میں انکوائریاں جاری ر ہی۔ ایس پی انویسٹی گیشن انکوائری میں سعیدہ خالق کو ڈسمس فرام سروس کردیا گیا اور دیگر ا ہلکاروں کو بحال کردیا گیا۔ چھ ماہ بعد پنجاب فرانزک کی رپورٹ آنے کےبعد کیس دوبارہ زندہ ہوگیا اور ایک نیا رخ اختیار کر گیا۔ پنجاب فرانزک رپورٹ میں عمران مانی کی موت ہارٹ اٹیک سے نہیں بلکہ گلا دبانے سے قراردی گئی۔ورثا نے وکلاسے رابطے کئےسابق صدر بار کوٹ ادو نے ورثا کو کیس فری لڑنے کی آفر کردی اور عدالت کو ورثا کی طرف سے دوبارہ قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹمارٹم کی اجازت مانگی جو کہ عدالت نے دے دی۔ قبر کشائی کے روز سعیدہ خالق کی طرف سے ہائیکورٹ کی طرف سٹے آرڈر ملنے پر قبر کشائی روک دی گئی۔ ورثا کی طرف سے وکیل ارشد صدیقی نے سٹے ختم کراکے دوبارہ قبر کشائی کرائی۔ لعش کو مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر سے نکال کر میڈیکل بورڈ کی موجودگی میں س ٹی سکین اور ایکسرے کرایا گیا اور اجزاء کو سیل کرکے فرانزک کے لئےبھجوادیا گیا۔ مبینہ طور پر متوفی کے والد کو صلح کے لئے بھاری رقم کی آفر بھی کرائی گئی جو اس نے ٹھکرا دی ۔







