سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، عوامی مفاد میں حکومت زمین حاصل کر سکتی ہے مگر منصفانہ معاوضہ لازم قرار-سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، عوامی مفاد میں حکومت زمین حاصل کر سکتی ہے مگر منصفانہ معاوضہ لازم قرار-سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، عالمی و مقامی مارکیٹوں میں نرخ نیچے آگئے-سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، عالمی و مقامی مارکیٹوں میں نرخ نیچے آگئے-کوٹ ادو: 7 ماہ پرانا حراستی موت کیس پھر زندہ، قبر کشائی، والد نے ڈیل آفر ٹھکرا دی-کوٹ ادو: 7 ماہ پرانا حراستی موت کیس پھر زندہ، قبر کشائی، والد نے ڈیل آفر ٹھکرا دی-ڈاکٹر بھابھہ کو ریلیف، مُقرب اکبر کی رپورٹ پر بی زیڈ یو انتظامیہ کی غیر جانبداری سوالیہ نشان-ڈاکٹر بھابھہ کو ریلیف، مُقرب اکبر کی رپورٹ پر بی زیڈ یو انتظامیہ کی غیر جانبداری سوالیہ نشان-گندم خریداری، پاسکو کا 53 سالہ سنہرا دور تمام پنجاب میں نِجی ماڈل، حکومتی سہولتکاری ناکام-گندم خریداری، پاسکو کا 53 سالہ سنہرا دور تمام پنجاب میں نِجی ماڈل، حکومتی سہولتکاری ناکام

تازہ ترین

سول ملٹری ٹرائل کیس: غیر متعلقہ شخص پر فوجی قوانین کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ آئینی بینچ کا سوال

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، عوامی مفاد میں حکومت زمین حاصل کر سکتی ہے مگر منصفانہ معاوضہ لازم قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ریاست عوامی مفاد کے تحت زمین یا جائیداد حاصل کرنے کا اختیار رکھتی ہے، تاہم اس اختیار کے استعمال کے دوران متاثرہ مالک کو مکمل اور منصفانہ معاوضہ دینا آئینی تقاضا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت ضرورت پڑنے پر مالک کی رضامندی کے بغیر بھی زمین حاصل کر سکتی ہے، لیکن یہ اختیار غیر محدود نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے دائرہ کار میں استعمال کیا جائے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اراضی کے معاوضے کا تعین صرف سرکاری نرخوں کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ زمین کی مارکیٹ ویلیو، ممکنہ استعمال، مستقبل میں ترقی کے امکانات اور حصولِ اراضی میں تاخیر کے دوران افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کو بھی مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جائیداد کے مالک کو ایسا معاوضہ ملنا چاہیے جو اس کے حقیقی مالی نقصان کا ازالہ کرے۔ عدالت نے اس اصول کو “سونے کے بدلے سونا، تانبا نہیں” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ کسی بھی شہری کو سرکاری اقدام کے نتیجے میں مالی نقصان یا معاشی مشکلات سے دوچار نہیں ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 23 کے تحت ہر شہری کو جائیداد رکھنے، خریدنے، فروخت کرنے اور منتقل کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 24 کے مطابق قانونی طریقہ کار کے بغیر کسی شخص کو اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ صوابی میں نہری منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق کیس میں سنایا گیا، جہاں خیبرپختونخوا حکومت نے بڑھائے گئے معاوضے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے حکومت کی تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ریفرنس کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا اور زمین مالکان کے حق میں فیصلہ سنایا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں