سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، عوامی مفاد میں حکومت زمین حاصل کر سکتی ہے مگر منصفانہ معاوضہ لازم قرار-سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، عوامی مفاد میں حکومت زمین حاصل کر سکتی ہے مگر منصفانہ معاوضہ لازم قرار-سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، عالمی و مقامی مارکیٹوں میں نرخ نیچے آگئے-سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، عالمی و مقامی مارکیٹوں میں نرخ نیچے آگئے-کوٹ ادو: 7 ماہ پرانا حراستی موت کیس پھر زندہ، قبر کشائی، والد نے ڈیل آفر ٹھکرا دی-کوٹ ادو: 7 ماہ پرانا حراستی موت کیس پھر زندہ، قبر کشائی، والد نے ڈیل آفر ٹھکرا دی-ڈاکٹر بھابھہ کو ریلیف، مُقرب اکبر کی رپورٹ پر بی زیڈ یو انتظامیہ کی غیر جانبداری سوالیہ نشان-ڈاکٹر بھابھہ کو ریلیف، مُقرب اکبر کی رپورٹ پر بی زیڈ یو انتظامیہ کی غیر جانبداری سوالیہ نشان-گندم خریداری، پاسکو کا 53 سالہ سنہرا دور تمام پنجاب میں نِجی ماڈل، حکومتی سہولتکاری ناکام-گندم خریداری، پاسکو کا 53 سالہ سنہرا دور تمام پنجاب میں نِجی ماڈل، حکومتی سہولتکاری ناکام

تازہ ترین

گندم خریداری، پاسکو کا 53 سالہ سنہرا دور تمام پنجاب میں نِجی ماڈل، حکومتی سہولتکاری ناکام

ملتان (سٹاف رپورٹر)سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آج سے 53 سال قبل 1973 میں کاشتکاروں کی سہولت اور گندم کی ملک کے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بلا تفریق اور بلا تعطل فراہمی کے لیےپاسکوکاادارہ قائم کیا تھا اور اس سے قبل لوگ راشن ڈ پوز پر لائن میں لگ کر طے شدہ کوٹے کے مطابق راشن لیا کرتے تھے جبکہ گندم اور چینی کی قلت کی صورتحال اس قدر ابتر تھی کہ ضلع مظفرگڑھ میں ضیاء الحق کے دور میں ایک شخص سے پانچ کلو چینی برآمد ہونے پر اسے سرعام کوڑے مارے گئے تھے۔ 1973 میں پاسکو کے قیام کے بعد صرف پانچ سال کے عرصے میں پاکستان کے کونے کونے میں گندم کی فراہمی کا بہترین نظام قائم ہو گیا اور اس عرصے میں بہت سے علاقوں میں گندم سٹاک کرنے کے لیے سرکاری سطح پر بڑے بڑے گودام بھی بنا دیئے گئے۔ بھٹو دور میں پاسکو کے قیام کے مقاصد میں ملک بھر میں غذائی تحفظ فراہم کرنا، کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت دلوانا، ذخیرہ اندوز کی مداخلت کو ختم کرنا، عوام کے لیے گندم کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا، گندم کی حفاظت کے لیے جدید گودام تعمیر کرنا تاکہ گندم مختلف بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رکھی جا سکے، صوبوں کے درمیان گندم کی فراہمی کے نظام کو منظم کرنا جبکہ ضرورت کے وقت برآمد اور درآمد کا انتظام کرنا شامل تھا اور اس ادارے نے اپنے قیام کے صرف چھ سال کے اندر اندر بہت حد تک ان مقاصد کو پورا کر لیا تھا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے محکمہ خوراک کے تقریبا ًخاتمے اور محکمہ خوراک کے نظام کو اتھارٹی کے ذریعے چلانے اور نجی شعبے کی مداخلت کو ایک مرتبہ پھر 50 سال بعد بڑھانے جیسے اقدامات کیے گئے اور صرف 12 نجی کمپنیوں کو گندم کی خریداری کی اجازت دی گئی جبکہ حیران پر طور پر ان نجی کمپنیوں کو کروڑوں روپے کا باردانہ بھی حکومت نے فراہم کیا اور پھر قرضوں کی ادائیگی بھی حکومت پنجاب نے اپنے ذمے لے لی اور یہ فیصلہ اپنے آغاز میں ہی دھڑام سے نیچے آگرا اور اب صورتحال یہ ہے کہ سرکاری ادارے پیرا فورس کی مدد سے لوگوں کے گھروں گوداموں حتیٰ کہ فلور ملوں اور فیڈ ملوں پر چھاپے مار کر زبردستی ان سے گندم کا سات سے دس فیصد سٹاک جبری طور پر حاصل کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہےہیں مگر اسے ناکامی کا سامنا ہے اور ضلعی انتظامیہ، فوڈ سکیورٹی اور پیرا فورس کے عملے کی طرف سے گندم کے سٹاکسٹوں سے زبردستی رشوت کی وصولی کی شکایات جہاں مل رہی ہیں وہیں پر نجی کمپنیوں کے لیے سرکاری اداروں کی طرف سے گندم کی مارکیٹ کی قیمت کے بجائے سرکاری قیمت 3500 روپے فی من کے حساب سے جبری گندم خریدنے کا نصف ٹارگٹ بھی پورا نہیں ہو سکا۔ یاد رہے کہ ایک معروف نجی کمپنی جسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے کے لیے ملتان سے سات لاکھ بوری کا ٹارگٹ تھا جو اب تک نصف بھی مکمل نہیں ہو سکا۔ دیگر اضلاع میں صورتحال اس سے بھی ابتر ہے اور اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ باہر سے گندم امپورٹ کی جائے جبکہ آئندہ چند دنوں میں اس کا اعلان بھی متوقع ہے۔ یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ پرائیویٹ کمپنیوں کو گندم سٹاک کرنے کے لیے سرکاری گوداموں کی سہولت بھی بعض جگہوں پر دی جا رہی ہے بعد ازاں حکومت ان نجی کمپنیوں سے گندم خرید کر فلور ملوں کو پسوائی کے لیے فراہم کرے گی۔ اس گندم سے آٹا بنا کر مارکیٹ میں فروخت کریں گے۔ مثالی کاشتکاروں اور تجربہ کار فلور مل مالکان نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایوب دور کی طرح ایک مرتبہ پھر گندم پر ذخیرہ اندوزوں کا قبضہ ہو جائے گا اور وہ کاشتکاروں کو ناک سے لکیریں نکلوا کر سستی گندم خریدیں گے، توڑ توڑ کر پیسے دیں گے اور پھر مہنگے ناموں اسے فروخت کریں گے اور فروٹ و سبزی منڈیوں کی طرح مڈل مین کما جائے گا نہ کاشتکار کو کچھ ملے گا اور نہ ہی اینڈ یوزر کو اور یہی حکومت کے غلط فیصلوں کے اثرات ہوتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں