ملتان (قوم ایجوکیشن سیل) زکریا یونیورسٹی میں فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کی طرف سے اپنی سابقہ اہلیہ اور اسی ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسر ڈاکٹر شازیہ افضل پر تشدد ، بلیک میل کرنے اور اخلاقی حدود کراس کرنے کے الزام میں درج مقدمے کی فرانزک رپورٹ کے مثبت آنے کے بعد مقدمہ واپس لینے کے لیے ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ دوبارہ بدتمیزی کرنے اور انہیں بلیک میل کرنے کے الزام میں ایس پی کینٹ کی طرف سے تفتیش کے بعد ڈاکٹر بھابھہ کو دوبارہ گرفتار کیا گیا جنہیں اگلے روز ہی ضمانت پر رہائی مل گئی۔ یونیورسٹی کے آر او ڈاکٹر مقرب اکبر اور سکیورٹی آفیسر اعظم بھٹی سمیت اساتذہ کی دائیں بازو کی متحرک تنظیم کی طرف سے ڈاکٹر بھابھہ کی حمایت میں عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں انہیں عدالت سے ضمانت پر رہائی ملی۔ اس رپورٹ میں صریحاً جھوٹ بولا گیا کہ یونیورسٹی کی حدود میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ کسی قسم کی ہراسمنٹ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا حالانکہ توجہ طلب امر یہ ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کی طرف سے مقدمہ واپس لینے کے لیے بلیک میل کیے جانے اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دینے کی باقاعدہ اطلاع یونیورسٹی کی ہراسمنٹ کمیٹی کو بھی دی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کی دائیں بازو کی اساتذہ تنظیم ڈاکٹر بھابھہ کے بعض نفسیاتی مسائل اور عملے کے ساتھ رویے کے علاوہ طلبہ کے ساتھ انتہائی بدتمیزی جیسے واقعات سے آگاہی کے باوجود محض دھڑے بندی کی بنیاد پر انہیں ہر طرح کی سپورٹ دیتی رہتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہراسمنٹ کمیٹی زکریا یونیورسٹی کی سربراہ ڈاکٹر روحمہ بھی میرٹ پر فیصلہ کرنےکے بجائے اس سنگین نوعیت کے اخلاقی معاملے کو کئی ماہ سے دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں حالانکہ یہ ہراسمنٹ کمیٹی اس واقعے کی ڈیپارٹمنٹ میں جا کر مکمل تصدیق کئی ماہ قبل کر چکی ہے اور ڈاکٹر شازیہ کا بیان بھی لے چکی ہے جبکہ قوم کے نمائندے کے ساتھ گفتگو میں اس کمیٹی کے ایک ممبر نے تسلیم کیا تھاکہ ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ زبانی ،جسمانی اور اخلاقی ہراسمنٹ ہوئی ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے جبکہ یہ واقعہ بھی ڈاکٹر احسان قادر بھابھا کے یونیورسٹی کے دفتر میں پیش آیا۔ ہر طرح کے دباؤ کے باوجود پولیس نے تو اپنی ذمہ داری پوری کی مگر یونیورسٹی انتظامیہ کی رپورٹ پر ڈاکٹر بھابھہ کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ قانونی ماہرین نے بتایا کہ فرانزک رپورٹ کے مثبت آنے کے بعد ملزم کسی بھی طور پر سزا سے نہیں بچ سکے گا اس لیے ملزم کے پاس واحد راستہ یہی بچا ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے ڈاکٹر شازیہ پر دباؤ ڈال کر ان سے کیس واپس کروا لے جس کے لیے ملزم ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔







