چین نے ایران سے متعلق امریکی پابندیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انہیں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات قرار دے دیا ہے۔
امریکا کی جانب سے حال ہی میں چین میں قائم تین کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور الزام لگایا گیا تھا کہ یہ کمپنیاں ایرانی فوجی سرگرمیوں میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گاؤ جیاکن نے پریس بریفنگ میں کہا کہ چین اپنی کمپنیوں کو ہمیشہ ملکی قوانین اور ضوابط کے مطابق کاروبار کرنے کی ہدایت دیتا ہے اور بیجنگ اپنے اداروں کے قانونی حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا۔
چینی ترجمان نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے اہم ترجیح جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور خطے میں دوبارہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا ہے، نہ کہ جنگی صورتحال کو جواز بنا کر دیگر ممالک پر الزامات عائد کرنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین یکطرفہ پابندیوں کی سخت مخالفت کرتا ہے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ، معیشت اور خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ چین اس وقت ایران سے تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جبکہ امریکا تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل نئی پابندیاں عائد کر رہا ہے۔







