نواز شریف کے بیان پر پیپلز پارٹی کا سخت ردعمل، سندھ اور کشمیر کی توہین برداشت نہیں ہوگی

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن سندھ، کشمیر یا کسی بھی خطے اور وہاں کے عوام کو طنز و تمسخر کا نشانہ بنانا مناسب طرزِ سیاست نہیں۔
اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے فطری بات ہے، تاہم کسی صوبے، شہر یا علاقے کی تضحیک ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو چاہیے کہ سندھ اور کشمیر کی سرزمین اور وہاں کے عوام کو سیاسی تقاریر میں مذاق کا موضوع نہ بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم کا یہ انداز غیر سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی ماحول میں غیر ضروری تلخی بھی پیدا کر رہا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کسی شہر یا ضلع کا نام سیاسی تقابل یا طنزیہ انداز میں استعمال کرنا مثبت سیاست کی عکاسی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق اگرچہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں تلخی سے گریز کی بات کی، مگر ان کے اپنے الفاظ تقسیم اور کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔
دوسری جانب سندھ کے وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے بھی نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تاریخی شہر میرپورخاص اور اس کے عوام کے حوالے سے استعمال کیے گئے الفاظ نامناسب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی شہر یا خطے کی توہین کرنا درست رویہ نہیں، کیونکہ میرپورخاص سندھ کی تاریخ، ثقافت، زراعت اور قومی معیشت میں اہم کردار رکھتا ہے۔
ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ جمہوریت اور ملکی ترقی کے لیے قربانیاں دی ہیں، اس لیے کسی بھی صورت سندھ یا اس کے عوام کی تضحیک برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف اپنے بیان پر میرپورخاص کے عوام سے معذرت کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپنی گرتی ہوئی سیاسی حیثیت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم آزاد کشمیر کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان دیرینہ تعلق موجود ہے، جسے سیاسی بیانات سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے آزاد کشمیر انتخابات کے تناظر میں کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہر کشمیری کو مساوی حقوق، عزت اور بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
شازیہ مری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کشمیری عوام کے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کی بات کر رہے ہیں، جس میں کوئی غلط بات نہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی تنقید کے بجائے کشمیر کے مستقبل کے لیے اپنا واضح پروگرام عوام کے سامنے پیش کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام اب صرف وعدوں پر نہیں بلکہ عملی کارکردگی پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی مساوات، احترام اور عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ 27 جولائی کو کشمیری عوام تیر پر مہر لگا کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں