ملتان (جنرل رپورٹر)کرونا وبا کے دوران خاتون کوچ کی مبینہ غیر قانونی بھرتی، اس کے بعد سرکاری ریکارڈ کی چوری— ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عدنان نعیم کے خلاف الزامات کا ایک اور سلسلہ سامنے آیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عدنان نعیم نے کرونا وبا کے دوران ایک خاتون کوچ کی بھرتی کی تھی جسے محکمانہ قواعد کے مطابق غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے تاہم معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا — اس بھرتی سے متعلق سرکاری ریکارڈ بھی مبینہ طور پر چوری کر لیا گیا۔ڈویژنل سپورٹس آفیسر عطاء الرحمن خان کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عدنان نعیم نے خود ریکارڈ چوری اور مقدمہ درج کرانے کے لیے درخواست دے دی ہے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ ریکارڈ چوری کے حوالے سے سوالات خود عدنان نعیم پر اٹھائے جا رہے ہیں — جس نے درخواست دی وہی ممکنہ طور پر اس چوری کا مرکزی کردار بھی ہے۔محکمہ کے اندرونی حلقوں میں یہ بحث تیز ہے کہ اگر بھرتی خود ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے کی تھی تو ریکارڈ چوری کے بعد اس ریکارڈ کو “چوری” قرار دے کر اصل شواہد کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک ذمہ دارانہ حلقے کا کہنا ہے کہ “پہلے غیر قانونی بھرتی کی گئی، پھر اس کے ریکارڈ کو غائب کر دیا گیا، اور اب چوری کا مقدمہ درج کرا کر الزامات سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے”۔یہ واقعہ کھیلوں کے محکمے میں بڑھتی ہوئی بدنظمی کی ایک اور مثال ہے۔ کرونا وبا جیسے حساس وقت میں جب تمام سرکاری کاموں میں شفافیت کی خاص طور پر ضرورت تھی اس دوران غیر قانونی بھرتی اور پھر ریکارڈ کی چوری محکمے کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔اب تک اس معاملے میں کوئی باقاعدہ تحقیقات شروع نہیں ہوئیں، اور نہ ہی کسی اعلیٰ افسر نے اس حوالے سے کوئی موقف اپنایا ہے۔ تاہم یہ الزامات کھیلوں کے محکمے کے عہدیداروں کی جوابدہی اور شفافیت پر گہرے دھبے ہیں۔ عوام اور کھیلوں سے وابستہ حلقے اس معاملے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔







