بہاولپور ( کرائم سیل)جھیل، نہ نہر،شہر کے قلب محلہ کجل پورہ سے 60 کلو وزنی کچھوا برآمد ہونے کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے اسے چڑیا گھر کے حوالے کر دیا، مگر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کچھوا کہاں سے آیا۔ شہر کے سنجیدہ حلقوں نے کجل پورہ میں قصابوں کی بڑی تعداد کی رہائش کے باعث خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں کچھوے کے گوشت کی غیر قانونی سپلائی کا کوئی نیٹ ورک تو موجود نہیں۔ جہاں سے کچھوا برآمد ہوا، وہاں سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اداروں کو مکمل تحقیقات کرنی چاہیے تھی۔تفصیلات کے مطابق شہر کے گنجان آباد علاقے کجل پورہ، جہاں چاروں اطراف بازار اور رہائشی مکانات واقع ہیں، سے 60 کلو وزنی کچھوا برآمد ہوا۔ ریسکیو اداروں نے کچھوے کو تحویل میں لے کر چڑیا گھر کے حوالے کر دیا، جس کے بعد معاملہ خاموشی اختیار کر گیا۔قابلِ غور امر یہ ہے کہ اندرونِ بازار کجل پورہ کے اطراف نہ کوئی جھیل موجود ہے اور نہ ہی کوئی نہر یا آبی گزرگاہ گزرتی ہے جہاں اس نوعیت کا کچھوا قدرتی طور پر پیدا ہو یا طویل عرصہ رہائش اختیار کر سکے۔ اس صورتحال نے شہریوں اور سنجیدہ حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق جس مقام سے کچھوا برآمد ہوا، اس کے اردگرد قصائیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے، جس کے باعث خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر کچھوے کا گوشت قیمہ بنا کر ہوٹلوں اور کباب شاپس کو سپلائی کرنے کا نیٹ ورک بھی موجود ہوسکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سیخ کباب اور دیگر قیمہ جاتی اشیاء میں اس کے استعمال کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقاتی ادارے اور متعلقہ محکمے فوری طور پر اس بات کی مکمل چھان بین کریں کہ مذکورہ کچھوا کہاں سے لایا گیا، کس مقصد کے لیے رکھا گیا اور یہ کس رہائشی مکان سے برآمد ہوا۔ علاقے میں کثیر آبادی اور بڑی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی کے باعث، معمولی محنت سے اس کے ماخذ تک پہنچا جا سکتا ہے۔شہریوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر بروقت تحقیقات نہ کی گئیں تو ممکن ہے کہ اس طرح کے مزید کچھوے غیر قانونی طور پر شہر میں لائے جا رہے ہوں اور انہیں مختلف ہوٹلوں کو سپلائی کیا جا رہا ہو، جو نہ صرف قانون بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔






