ٹریفک کارووائیاں سلو، کم عمر ڈرائیور، سکول وین اوورلوڈنگ، ملتان میں حادثات تیز

ملتان(شیخ نعیم سے)پنجاب خصوصاً ملتان سمیت بڑے شہروں میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ، قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور ناقص عملدرآمد نے شہری سڑکوں کو خطرناک بنا دیا ہے۔ سکول وینوں، موٹر سائیکلوں اور سکوٹیوں کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے باعث ٹریفک حادثات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں خواتین اور کمسن بچے شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومتِ پنجاب نے کچھ عرصہ قبل بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ کے پیش نظر ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے سکول اور کالج کے کم عمر طلبہ کی ہر قسم کی ڈرائیونگ پر سخت پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت موٹر سائیکل، اسکوٹی اور دیگر گاڑیاں چلانے والے کم عمر بچوں کے خلاف کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں، متعدد موٹر سائیکلیں ضبط ہوئیں اور والدین کو بھی سختی سے متنبہ کیا گیا۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی سختی کے بعدحکومتی نرمی، بااثر اور بعض سیاسی شخصیات کی مداخلت کے باعث یہ کارروائیاں آہستہ آہستہ کمزور پڑتی چلی گئیں اور بالآخر معاملہ تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ نتیجتاً ایک بار پھر وہی صورتحال جنم لے چکی ہے جہاں کم عمر بچے بلاخوف و خطر سڑکوں پر تیز رفتاری، ریس لگانے اور خطرناک انداز میں گاڑیاں چلاتے نظر آتے ہیں۔ شہری علاقوں میں آئے روز یہ مناظر دیکھے جا سکتے ہیں کہ ایک ہی سکوٹی یا موٹر سائیکل پر چار سے پانچ کمسن بچے سوار ہیں، جن میں سے کسی نے بھی حفاظتی ہیلمٹ نہیں پہن رکھا ہوتا۔ اسکول سے آتے جاتے یہ بچے نہ صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ دیگر شہریوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ٹریفک ذرائع کے مطابق- کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ والدین کی سنگین غفلت کا بھی عکاس ہے۔ بیشتر حادثات میں بچوں کے سر اور جسم کے نازک حصوں پر شدید چوٹیں آتی ہیں، جو بعض اوقات زندگی بھر کی معذوری یا موت کا سبب بن جاتی ہیں۔ اس کے باوجود والدین سہولت یا وقتی مجبوری کے نام پر اپنے بچوں کو خود گاڑی فراہم کر دیتے ہیں، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سکول وینوں کی اوورلوڈنگ، غیر تربیت یافتہ ڈرائیور اور خستہ حال گاڑیاں بھی حادثات کی بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد سکول وینیں مقررہ معیار اور فٹنس پر پوری نہیں اترتیں، جبکہ بچوں کی تعداد حد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، مگر متعلقہ اداروں کی جانب سے موثر نگرانی کا فقدان ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی کارروائیاں اکثر چالان تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں جبکہ خطرناک ڈرائیونگ، کم عمر بچوں اور اوورلوڈنگ کے خلاف بلاامتیاز اور مستقل اقدامات نظر نہیں آتے۔ اسکول اوقات کے دوران ٹریفک کی بدنظمی معمول بن چکی ہے، جس پر نہ اسکول انتظامیہ سنجیدہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی والدین ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جو موٹر سائیکل یا سکوٹی پر سوار تھے۔ بعض واقعات میں تیز رفتار ٹرکوں اور دیگر بھاری گاڑیوں کی زد میں آ کر قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جنہیں بروقت اور سخت احتیاطی اقدامات کے ذریعے بچایا جا سکتا تھا۔حادثات کے بعدمتاثرین کو فوری طبی امداد دی گئی۔سماجی اور شہری حلقوں نے حکومت پنجاب، ٹریفک پولیس اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر ڈرائیونگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، اسکول وینوں کی فٹنس، ڈرائیوروں کی تربیت اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ سیاسی دباؤ اور سفارش سے بالاتر ہو کر بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ بصورت دیگر ٹریفک حادثات کی یہ لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے جس کے نتائج پورے معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہونگے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں