ملتان (خصوصی رپورٹر)بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی جانب سے ایل ایل بی پانچ سالہ پروگرام کے طلبہ کو امتحانات میں شرکت سے روکنے کے فیصلے کے خلاف لاسٹوڈنٹس کمیشن پاکستان نے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے ،تنظیم کی جانب سے آج پریس کانفرنس کیے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی جنوبی پنجاب کی ایک نامور اور تاریخی درسگاہ ہے، لا سٹڈی سنٹر، کنٹرولر امتحانات اور ایڈمن سٹاف کے مابین باہمی اختلافات، انتظامی نااہلی اور بدانتظامی کے باعث ایل ایل بی پانچ سالہ پروگرام سے وابستہ سینکڑوں طلبا و طالبات شدید تعلیمی اور معاشی نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی نے طلبہ سے فیسوں کی مد میں کروڑوں روپے وصول کیے مگر اس کے باوجود 9 فروری 2026 کو ہونے والے امتحانات میں بغیر کسی قانونی جواز کے طلبہ و طالبات کو شرکت سے روک دیا گیا، جس سے ان کی ڈگریاں مزید التوا کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانچ سالہ پروگرام کم از کم نو سال میں مکمل ہوگا، جس کے باعث سینکڑوں طلبہ کی قیمتی عمر ضائع ہو چکی ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ کم حاضری کے مسئلے پر طلبہ کو سیشن کے دوران بروقت آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اضافی کلاسز کا اہتمام کیا گیا، جس کی مکمل ذمہ داری لاء اسٹڈی سنٹر کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ اب طلبہ سے مزید بھاری فیسیں وصول کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ اپنے اصل سیشن سے جونیئر ہو جائیں گے، جبکہ سیشن گیپ ختم کرنے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار بھی موجود نہیں۔لاء اسٹوڈنٹس کمیشن پاکستان کے مطابق پاکستان کے آئین، پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قوانین کے تحت قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں، اس کے باوجود متعدد طلبہ کو 24 سال سے زائد عمر کا بہانہ بنا کر امتحانات سے روک دیا گیا، حالانکہ یہی طلبہ پہلے ہی تین سال کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں۔ تنظیم نے اس اقدام کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔اعلامیے میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ عدالتی کیسز اور مبینہ گھوسٹ کالجز سے وابستہ طلبہ و طالبات سے بھی کروڑوں روپے فیس وصول کی گئی، مگر ان کے امتحانات بھی بغیر کسی قانونی منطق کے روک دیے گئے، جبکہ ہر متنازع فیصلے کو سینڈیکیٹ کے نام سے منسوب کر کے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لاء اسٹوڈنٹس کمیشن پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ طلبہ کو فوری طور پر امتحانات میں شرکت کی اجازت دی جائے، غیر قانونی پابندیاں ختم کی جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائےبصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔






