ملتان: پولیس کو تاجروں میں گھسے ڈکیٹ ڈھونڈنے کا ٹاسک، بازاروں میں خوف و ہراس

ملتان(نیوز رپورٹر ) پولیس کو تاجروں میں گھسے ڈکیت ڈھونڈنے کا ٹاسک دے دیا گیا،دکانوں، مارکیٹوں، پلازوں ،اور دیگر کاروباری مراکز میں ملازمین کا ریکارڈ اکٹھا کرنے کی مہم، تاجروں کو مشکلات، کاروباری سرگرمیاں متاثر،سی پی او ملتان کی ہدایات پر شہر کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کے لیے دکانوں، مارکیٹوں اور کمرشل پلازوں میں کام کرنے والے ملازمین کا ریکارڈ اکٹھا کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت مختلف تھانوں کے سکیورٹی انچارج ،پولیس اہلکار مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں ملازمین کے قومی شناختی کارڈ سکین کر کے ان کا ڈیٹا جانچ پڑتال کے لیے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد شہر میں جرائم کی روک تھام اور مشکوک عناصر کی نشاندہی کرنا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ شناختی ریکارڈ کی جانچ کے دوران متعدد افراد ایسے مقدمات میں مطلوب نکل رہے ہیں جو ماضی میں لڑائی جھگڑے یا معمولی نوعیت کے تھے اور جن میں فریقین کے درمیان صلح ہو چکی تھی، مگر عدالت میں صلح نامہ جمع نہ ہونے کے باعث ان کے وارنٹ گرفتاری تاحال برقرار ہیں، جس پر پولیس کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔اس صورتحال کے باعث شہر کی مختلف مارکیٹوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ کئی نوجوان پولیس کارروائی کے خدشے کے پیش نظر ملازمتیں چھوڑ کر گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اچانک ملازمین کی کمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، دکانیں وقت پر نہیں کھل رہیں اور گاہکوں کو مناسب سہولت فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔تاجروںکا کہنا ہے کہ پولیس ریکارڈ اکٹھا کرنے کے عمل میں تاجروں اور ملازمین کو اعتماد میں لے اور صلح شدہ یا معمولی نوعیت کے مقدمات میں شہریوں کو قانونی موقع فراہم کیا جائے تاکہ بلاوجہ خوف اور کاروباری نقصان سے بچا جا سکے۔ جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، تاہم ایسے مقدمات جن میں فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہو، ان میں سخت کارروائی سے شہریوں میں بے چینی اور معاشی مسائل جنم لے رہے ہیں۔دوسری جانب پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ ریکارڈ اکٹھا کرنے کی یہ مہم شہر کے امن و امان کے لیے ضروری ہے اور کسی بے گناہ شہری یا تاجر کو ہراساں کرنا پولیس کا مقصد نہیں۔ پولیس کے مطابق جائز کاروبار کرنے والوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں