بہاولپور (افتخار عارف سے)محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر میں مخصوص لابی کا راج، سیاسی سفارشیوں نے پنجاب کے سرکاری ہسپتال یرغمال بنا لیے۔ وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور میں مقامی سینئر ڈاکٹرز کو نظر انداز کر کے لاہور سے امپورٹڈ ایم ایس تعینات کر دیا گیا، جبکہ سروسز ہسپتال لاہور میں قواعد کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سابق ایم ایس ڈاکٹر غوری کی ریٹائرمنٹ کے بعد گریڈ 18 کے جونیئر ڈاکٹر عمران زیدی کو ایم ایس تعینات کرنے سے میرٹ دفن، سیاست زندہ ہسپتالوں میں شدید انتظامی بحران کے خطرات منڈلانے لگے۔ پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں غیر قانونی تعیناتیوں کے انکشاف نے سینئر ڈاکٹرز میں شدید اضطراب جبکہ سیاسی خوشنودی پر ایم ایس کی تعیناتیوں نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب میں سیاسی مداخلت اور مخصوص لابیوں کے اثر و رسوخ کے باعث صوبے کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کا انتظامی ڈھانچہ شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پنجاب کے متعدد بڑے ہسپتالوں میں سینیئر ترین ڈاکٹرز کی موجودگی کے باوجود جونیئر ڈاکٹرز کو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) تعینات کر دیا گیا، جس سے نہ صرف ادارہ جاتی نظم و ضبط متاثر ہو رہا ہے بلکہ سینیئر ڈاکٹرز میں شدید اضطراب بھی پایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے ہسپتالوں میں شمار ہونے والے سروسز ہسپتال لاہور میں سابقہ ایم ایس ڈاکٹر غوری کی ریٹائرمنٹ کے بعد گریڈ 18 کے جونیئر ڈاکٹر عمران زیدی کو ایم ایس کا چارج دے دیا گیا، حالانکہ اسی ہسپتال میں گریڈ 19 اور 20 کے متعدد تجربہ کار اور سینیئر ڈاکٹرز دستیاب تھے۔ قواعد کے برعکس اس تقرری کو سیاسی سفارش اور ایک مخصوص لابی کی بھرپور کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب ہسپتال رولز، سروس رولز اور PSHCM&E ڈیپارٹمنٹ کی پالیسی کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جیسے اہم انتظامی عہدے پر تعیناتی کے لیے سروس سینارٹی، انتظامی تجربہ اور گریڈ اسٹرکچر بنیادی شرائط ہیں، تاہم حالیہ تقرریوں میں ان اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک) اور آرٹیکل 25 (برابری کا حق) کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ یہی طرزِ عمل دیگر ہسپتالوں میں بھی اپنایا جا رہا ہے۔ بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں مقامی سطح پر متعدد سینیئر ڈاکٹرز کی موجودگی کے باوجود لاہور سے ایم ایس کی تعیناتی نے بھی کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مقامی سینیئر ڈاکٹرز کو نظر انداز کرنا نہ صرف پیشہ ورانہ ناانصافی ہے بلکہ اس سے ہسپتال کے روزمرہ انتظامی امور، مریضوں کی سہولیات اور طبی نظم و نسق بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی ایسی تقرریاں ہسپتالوں میں فیصلہ سازی کے عمل کو کمزور کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ادویات کی فراہمی، ایمرجنسی سروسز، مالی نظم و نسق اور مریضوں کے علاج کا پورا نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینیئر ڈاکٹرز میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کسی بڑے انتظامی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر تقرریاں میرٹ، سینارٹی اور سروس رولز کے برعکس ثابت ہوئیں تو یہ معاملہ عدالتی نظرثانی اور اینٹی کرپشن قوانین کے دائرہ کار میں بھی آ سکتا ہے، کیونکہ سرکاری عہدوں پر غیر شفاف تعیناتیاں اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف سمجھی جاتی ہیں۔اخر میں طبی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب، وزیر صحت اور سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان متنازع تقرریوں کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر جانبدار انکوائری کرائی جائے اور تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایم ایس کی تعیناتی کو شفاف، میرٹ اور قانون کے مطابق بنایا جائے، تاکہ صوبے کا صحت کا نظام مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔






