میرج ہالز نے ایس او پیز کا بینڈ بجا دیا، فوڈ اتھارٹی سلامی لیکر غائب، مالکان کو کھلی چھٹی

ملتان (زین العابدین سے)ملتان کے میرج ہالز اور شادی گھروں میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے جاری کردہ حفظانِ صحت کے ایس او پیز کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ایک خطرناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ماہ رمضان سے قبل شادی بیاہ کی تقریبات پر شہریوں کو غیر محفوظ اور غیر معیاری خوراک کھلائی جا رہی ہے، مگر فوڈ اتھارٹی کی جانب سے نہ تو نگرانی ہو رہی ہے اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی سامنے آ سکی ہے۔تحقیقات کے مطابق فوڈ اتھارٹی کی ہدایات میں واضح طور پر درج ہے کہ میرج ہالز میں صرف منظور شدہ اور معیاری خام مال استعمال کیا جائے، کچن ایریا جراثیم سے پاک ہو، عملہ دستانے، ہیئر کور اور یونیفارم کا پابند ہو، صاف پانی استعمال کیا جائے، پکا ہوا کھانا مقررہ درجہ حرارت پر رکھا جائے، بچا ہوا کھانا تلف کیا جائے، کیڑے مکوڑوں کے خاتمے کا مؤثر نظام ہو اور صفائی کے کیمیکلز کو خوراک سے علیحدہ رکھا جائے، تاہم مشاہدے میں آیا ہے کہ ان میں سے بیشتر ہدایات پر کھلے عام عمل نہیں ہو رہا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی میرج ہالز میں سستا اور غیر معیاری خام مال استعمال کیا جا رہا ہے، کھانا گندے اور غیر محفوظ کمروں میں تیار کیا جاتا ہے، باورچی اور ویٹرز بغیر دستانوں اور ہیئر کور کے کام کرتے ہیں، جبکہ آلودہ پانی سے برتن دھونا معمول بن چکا ہے۔ ایس او پیز کے برعکس بچا ہوا کھانا دوبارہ گرم کر کے پیش کیا جاتا ہے، جس سے فوڈ پوائزننگ، معدے اور آنتوں کی بیماریوں کے خدشات سنگین حد تک بڑھ گئے ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ فوڈ اتھارٹی کے فیلڈ افسران اور فوڈ سیفٹی ٹیمیں کہاں ہیں؟ ذرائع کے مطابق شادی ہالز کے معائنے یا تو ہوتے ہی نہیں یا محض رسمی کارروائی تک محدود رہتے ہیں۔ خلاف ورزیوں کے باوجود نہ جرمانے کیے جا رہے ہیں، نہ ہالز سیل ہو رہے ہیں اور نہ ہی قانونی نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی مشکوک دکھائی دیتی ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی “مہم” عملی اقدامات کے بغیر صرف تشہیری نعرہ بن کر رہ گئی ہے، جبکہ زمینی سطح پر شہریوں کی صحت سے کھلا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کا آڈٹ کیا جائے، میرج ہالز کے اچانک معائنے کرائے جائیں اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، بصورت دیگر اس مہم کی ساکھ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں