
ملتان (سید قلب حسن سے) پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) ملتان نے شہر کی خوبصورتی میں اضافے اور گرین بیلٹس پر شجرکاری کے دعوؤں کی آڑ میں عملی اقدامات کے بجائے محض تصویری نمائش کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ادارہ محمد والا روڈ پر محدود رقبے اور چند سو میٹر کے فاصلے پر کاپرنیشیا کے درخت لگا کر صرف تصویریں بنوانے اور انہیں سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک پر جاری کرنے تک محدود ہو چکا ہے۔ پی ایچ اے ملتان کی جانب سے جاری کی گئی ان خود تعریفی تصاویر پر شہریوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے ادارے کے دعوؤں کو بناوٹی اور گمراہ کن قرار دے دیا۔ سوشل میڈیا پر ایک شہری نے نشاندہی کی کہ “بوسن روڈ آج بھی درختوں سے مکمل طور پر خالی ہے، وہاں شجرکاری کا کوئی نشان تک موجود نہیں”۔ ایک اور ویور نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “جناب کبھی وہاڑی چوک کی حالتِ زار بھی دیکھ لیں، وہاں تو گرین بیلٹ کا تصور ہی دفن ہو چکا ہے”۔ عوامی تبصروں کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ ایک شہری نے لکھا کہ “اگر شجرکاری کے ساتھ لائٹس بھی نصب کر دی جاتیں تو منظر واقعی خوبصورت بن سکتا تھا”، جبکہ وہاڑی چوک سے متعلق ایک اور تبصرہ سامنے آیا کہ “وہاں تو گراسی پلاٹ نام کی کوئی چیز ہی باقی نہیں رہی”۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ایچ اے ملتان چند منتخب علاقوں میں نمائشی کام کر کے پورے شہر کے بجٹ کے خرچ کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ شہر کے بیشتر چوک، سڑکیں اور گرین بیلٹس اب بھی نظرانداز اور بدحالی کا شکار ہیں۔ ملتان میں وہاڑی روڈ،این ایل سی بائی پاس،چوک کمہارانوالہ،قادرپورراں ودیگرعلاقے اب بھی پی ایچ اے کی آنکھ سے اوجھل ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ تصویری مہم دراصل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ادارہ زمینی حقائق چھپانے اور عوامی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شجرکاری کو فوٹو سیشن کے بجائے جامع، منصفانہ اور شہر بھر میں یکساں بنیادوں پر عملی شکل دی جائے، اور پی ایچ اے ملتان کو یہ وضاحت دینا ہو گی کہ آیا محدود علاقوں میں نمائشی کام دکھا کر پورے بجٹ کا جواز پیش کیا جا رہا ہے یا واقعی شہر کی مجموعی خوبصورتی ادارے کی ترجیح ہے۔موقف کیلئے رابطہ پرپی ایچ اے کے ترجمان جلال الدین کاکہناہے کہ پارک اورگرین بیلٹس بہترین حالت میں ہیں اوران کی مزیدبہتری کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔






