ویمن یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹر کلثوم کے فرنٹ مین شفیق کی ملازمین کو ذہنی ہراسمنٹ

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان ان دنوں شدید انتظامی بحران اور خوف کی فضا کا شکار ہے جہاں یونیورسٹی ذرائع کے مطابق جعلی تجربے و جعلی تاریخ پیدائش پر بھرتی ہونے والی اور سیلاب فنڈز، گرینڈ گالا اور سیرت کانفرنس کے فنڈزمبینہ طورپر کھانے والی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے فرنٹ مین و دست راست محمد شفیق کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی، من مانے اور بے مثال تبادلوں اور تعیناتیوں نے پورے ادارے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صورتحال یہاں تک جا پہنچی ہے کہ ملازمین ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ تعلیمی اور انتظامی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شفیق کے آنے کے بعد یونیورسٹی میں تبادلوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ملازمین کو تبادلوں کی دھمکیاں نہ دی جائیں یا اچانک ٹرانسفر لیٹر جاری نہ کر دیے جائیں۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں اس وقت خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں اور ہر ملازم اس اندیشے میں مبتلا ہے کہ نہ جانے کب اس کا نام اگلے نوٹیفیکیشن میں آ جائے۔ ذرائع کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں تبادلوں کی مثال کسی بھی تعلیمی ادارے میں شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ انتظامی بدنظمی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب حالیہ دنوں میں سکیورٹی آفیسر (CSO) کا چارج ایک ایسے سسٹم ایڈمنسٹریٹر کو دے دیا گیا جس کا سکیورٹی امور سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، جبکہ تازہ ترین واقعے میں وائس چانسلر کے شوہر کے قریبی رشتے دار ایک نائب قاصد کو جونیئر کلرک کا چارج دے دیا گیا۔ یونیورسٹی حلقوں کے مطابق یہ اقدامات قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل بربادی کی واضح مثال ہیں۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ محمد شفیق مبینہ طور پر اختیارات کے بے دریغ استعمال، دھونس اور دھمکی کے ذریعے فیصلے مسلط کر رہے ہیں اور ملازمین کو یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ تمام اختیارات انہی کے پاس ہیں۔ مبینہ طور پر یہ بھی کہا جاتا رہا کہ ’’میں ہی وی سی ہوں، میرے نکالے گئے لیٹرز پر اعتراض کرنے کی کسی میں جرات نہیں، وی سی میرے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھا سکتی کیونکہ سارے کام میں ہی کرتا ہوں۔‘‘جو ملازمین ان کے احکامات ماننے سے انکار کرتے، انہیں ذلیل کرنے اور تبادلوں کے ذریعے سزا دینے کی دھمکیاں دی جاتیں۔ گزشتہ دنوں معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب بغیر کسی وجہ کے متعدد ملازمین کے تبادلے اس وقت کر دیئے گئے جب یونیورسٹی میں طلبہ کے فائنل امتحانات کے نتائج کی انٹری اور دیگر اہم انتظامی امور جاری تھے۔ متعلقہ افسران اور ملازمین جب وائس چانسلر تک پہنچے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان تبادلوں سے تعلیمی اور انتظامی امور شدید متاثر ہوں گے اور ان ملازمین سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں، تو انکشاف ہوا کہ وائس چانسلر اور رجسٹرار دونوں ہی ان تبادلوں سے لاعلم تھے۔ ذرائع کے مطابق جب وائس چانسلر نے محمد شفیق کو طلب کر کے وضاحت مانگی کہ ان کی منظوری کے بغیر یہ تبادلے کیسے کیے گئے تو جواب مزید حیران کن تھا۔ شفیق نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ’’میڈم میں آپ سے اپروول لینے ہی والا تھا‘‘۔ اس بیان نے یونیورسٹی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی، کیونکہ اس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ پہلے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے اور منظوری بعد میں لینے کا ارادہ تھا، جسے کھلی اجارہ داری اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ انتظامی بے قاعدگیوں کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایک پسندیدہ نائب قاصد حبیب الرحمان کو جونیئر کلرک بنا کر ایک ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کر دیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ نائب قاصد نہ صرف شفیق کا قریبی ساتھی ہے بلکہ وائس چانسلر کے شوہر کا قریبی رشتے دار بھی بتایا جا رہا ہےجس نے میرٹ اور قواعد و ضوابط پر مزید سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔ تعلیمی ماہرین اور یونیورسٹی ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر ان مبینہ غیر قانونی تبادلوں، دھونس اور اختیارات کے غلط استعمال کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو خواتین یونیورسٹی ملتان کا تعلیمی وقار، انتظامی ساکھ اور طلبہ کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یونیورسٹی حلقے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر ان معاملات کا نوٹس لیا جائے، تمام متنازعہ تبادلوں کو روکا جائے اور شفاف انکوائری کے ذریعے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں