ٹیسٹنگ سروسز میں شفافیت یا بندر بانٹ؟ پیپرا رولز کی خلاف ورزیوں کا پردہ فاش

ملتان (سٹاف رپورٹر) سرکاری اداروں میں ہیومن ریسورس کی تعیناتی کے لیے ٹیسٹنگ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے انتخاب کے حوالے سے پیپرا رولز کے تحت سخت اور واضح ضوابط نافذ ہیں، جن پر عملدرآمد کے بغیر کسی بھی کمپنی کی خدمات حاصل کرنا قانوناً ممکن نہیں۔ قواعد کے مطابق جس بھی کمپنی کو ٹیسٹنگ سروسز فراہم کرنے کے لیے منتخب کرنا مقصود ہو، اس کے لیے لازمی ہے کہ پہلے قومی سطح پر اخبارات میں باضابطہ اشتہار جاری کیا جائے تاکہ تمام اہل اداروں کو برابر کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ پیپرا قوانین کے تحت بڈنگ کے عمل میں سب سے پہلے کمرشل ایویلیویشن کے بنیادی معیار پر پورا اترنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بڈرز کے لیے لازمی ہے کہ وہ بڈنگ ڈاکومنٹس میں شامل ٹرمز آف ریفرنس کی مکمل اور تحریری قبولیت جمع کرائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بڈر کمپنی کا اپنا دفتر یا ہیڈ آفس لاہور میں ہونا بھی بنیادی شرط ہے، تاکہ انتظامی اور آپریشنل معاملات میں شفافیت اور رسائی ممکن ہو سکے۔ قواعد کے مطابق ٹیسٹنگ سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے پاس پنجاب کے تمام اضلاع میں ٹیسٹ سینٹرز کا نیٹ ورک ہونا لازمی ہے، جبکہ اس کے ساتھ یہ اہلیت بھی ضروری قرار دی گئی ہے کہ بڈر پاکستان کے تمام شہروں میں بیک وقت امتحانات منعقد کروانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مزید برآں، کمپنی کی اپنی آفیشل ویب سائٹ ہونا بھی لازم ہے، جہاں رول نمبر سلپس، امتحانی شیڈول اور نتائج بروقت اپلوڈ کیے جا سکیں۔ اسی تناظر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) میاں ثاقب نثار نے ملازمتوں کے لیے درخواست فیس میں اضافے کے خلاف ایک یونیورسٹی طالب علم کی جانب سے دائر درخواست پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ درخواست گزار طالب علم نے مؤقف اختیار کیا کہ مختلف سرکاری اسامیوں کے لیے درخواست دینے کی فیس بے حد زیادہ ہے، جو بے روزگار افراد کے لیے ناقابلِ برداشت مالی بوجھ بن چکی ہے۔ درخواست میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ بھاری مالی اخراجات کے باعث متعدد اہل امیدوار ملازمت کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں اور صرف فیس کی عدم استطاعت کے سبب درخواست دینے سے ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کو عوامی مفاد اور میرٹ کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ نے فوری مداخلت کی۔ چیف جسٹس کی ہدایات پر وفاقی حکومت نے تمام وزارتوں اور ان کے ذیلی محکموں کو ہدایت جاری کی کہ وہ ملازمتوں کے لیے وصول کی جانے والی درخواست فیس کا کم از کم 50 فیصد حصہ اپنے بجٹ سے ادا کریں، تاکہ بے روزگار شہریوں کو مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل ٹیسٹنگ سروس کو بھی پابند کیا گیا کہ وہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے قواعد کی مکمل پاسداری کرے اور امیدواروں سے کم سے کم ممکنہ فیس وصول کرنے کو یقینی بنائے۔ چیف جسٹس نے سیکیورٹی ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ ان احکامات پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلی رپورٹ دو ماہ کے اندر سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے، جبکہ صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ ملازمت کے خواہشمند افراد کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور چھ ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ پیپرا رولز کے تحت بڈرز سے مختلف حلف نامے بھی طلب کیے جاتے ہیں، جن میں یہ بیان حلفی شامل ہے کہ متعلقہ کمپنی کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے بلیک لسٹ نہیں کی گئی، جبکہ بڈنگ ڈاکومنٹس کے حوالے سے بھی ایک علیحدہ حلف نامہ جمع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ ان تمام ابتدائی شرائط پر پورا اترنے کے بعد ہی بڈر کو اگلے مرحلے یعنی نمبرنگ کریٹیریا میں شامل کیا جاتا ہے۔ نمبرنگ کرائیٹیریا کے تحت کمپنی کے مجموعی تجربے کے سالوں، دستیاب پیپر سیٹرز اور متعلقہ مضامین کے ماہرین، مستقل ملازمین کی تعداد، انکم ٹیکس ریٹرنز اور سابقہ تجربات کو پوائنٹس کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی شامل ہے کہ بڈر کو اس مخصوص فیلڈ میں عملی تجربہ حاصل ہو جس ادارے کے لیے ٹیسٹ لیا جا رہا ہو، تاکہ امتحانی عمل کی ساکھ اور معیار برقرار رکھا جا سکے۔ مزید برآں، بڈرز کی جانب سے امتحانی عمل کے لیے اپنی اپروچ اور میتھڈولوجی بھی تفصیل کے ساتھ پیش کرنا لازم ہے، جبکہ امیدواروں سے وصول کی جانے والی ایگزامینیشن فیس کی واضح کوٹیشن بھی بڈنگ دستاویزات کا حصہ ہونی چاہیے۔ اس تمام عمل کے بعد ادارے کی جانب سے ٹیکنیکل ایویلیویشن اور فائننشل ایویلیویشن الگ الگ کی جاتی ہے۔ قواعد کے مطابق ٹیکنیکل اور فائننشل ایویلیویشن کے نتائج کو یکجا کر کے کم ترین قابلِ قبول ایویلیویشن پیش کرنے والے بڈر کو ٹیسٹنگ سروسز فراہم کرنے کے لیے موزوں قرار دیا جاتا ہے، تاکہ شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں