بہاولپور (کرائم سیل) سلمیٰ جبیں قتل کیس میں مقامی سیاست دان رافی میاں کا کردار کھل کر سامنے آگیا، پہلے خفیہ منت سماجت، سفارش و آفر اور گھر تک جانے سے بات نہ بنی تو تڑیاں شروع، سیاسی پہلوان رافی میاں ملزم مختیار کو بے گناہ ثابت کرنے پر تل گیا، ایس پی ( RIB) کے تفتیشی اکٹھ میں ملزم مختیار حسین کی کھل کر حمایت جاری، بھاری نوٹ چلنے بارے انکشاف، گزشتہ روز ہونے والے ایس پی اکٹھ میں امیرا بی بی نے ملزم و سہولت کاروں کو کھری کھری سنا دیں، انکوائری آفیسر پر سچ عیاں ہونے اور اکٹھ کی اندرونی کہانی روزنامہ “قوم “سامنے لے آیا، بزرگ خاتون امیرا بی بی دباؤ کے سامنے ڈٹ گئیں، مقتولہ کو انصاف دلوا کر دم لوں گی، امیرا بی بی کا واضح پیغام،تفصیل کے مطابق سلمیٰ جبیں قتل کیس میں پردے کے پیچھے چلنے والا کھیل اب آہستہ آہستہ بے نقاب ہونا شروع ہو گیا ہے۔ وہ نام جو اب تک سرگوشیوں میں لیا جا رہا تھا، اب کھل کر سامنے آ چکا ہے وہ ہے مقامی سیاست دان رافی میاں۔باوثوق ذرائع کے مطابق رافی میاں نے ابتدا میں معاملہ دبانے کے لیے خاموش منت سماجت، سفارشیں اور پرکشش آفرز استعمال کیں۔یہاں تک کہ مقتولہ کے قریبی افراد کے گھر کی دہلیز تک جا پہنچے، مگر جب بات نہ بنی تو انداز بدل گیا۔ خاموشی کی جگہ دھمکیوں نے لے لی، سیاسی طاقت کے نشے میں چور رافی میاں، ملزم مختیار کو بے گناہ ثابت کرنے کے مشن پر نکل کھڑے ہوئے اور ایس پی آر آئی بی کے اکٹھ میں ملزم پارٹی کی کھلی حمایت کی،جبکہ پس پردہ ملاقاتیں اور بھاری نوٹوں کی گردش کے انکشافات نے کیس کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔گزشتہ روز ہونے والا ایس پی لیول اکٹھ اس کہانی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جس میں مبینہ طور پر ایس پی آر آئی بی نے مقتولہ کے چچا اور ملزم مختیار سے استفسار کیا کہ “آپ کا گھر کہاں ہے؟” تو اس نے بتایا کہ طالب حسین کے گھر کے ساتھ ہے۔ مزید پوچھا کہ واقعہ کے بعد آپ کہاں چلے گئے؟مختیار حسین نے بتایا مجھ سمیت تقریباً پوری بستی ڈر کے مارے اپنے گھروں کو چھوڑ کر غائب ہو گئی تھی، جس پر ایس پی آر آئی بی نے بتایا کہ اگر اس طرح تمام بستی غائب تھی تو وہ تو صبح ہی ہسپتال پہنچ گئی تھی، مگر آپ وہاں نہیں پہنچے۔ آپ ایک مہینے بعد آئے، وہ بھی مکمل ضمانتیں کروا کر، جس سے اس مقدمے میں آپ کا 100 فیصد ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔اسی دوران رافی میاں نے بات کرنے کی کوشش کی تو ایس پی آر آئی بی نے اسے ڈانٹتے ہوئے چپ کروا دیا۔اسی طرح امیرہ مائی نے بتایا کہ پہلے یہ شخص ( رافی میاں) میرے گھر آ کر مجھے پیسوں کی لالچ، ڈرانے دھمکانے اور قرآن پر جھوٹی قسمیں دینے کے لیے تیار تھا کہ مختیار حسین وقوعہ میں ملوث نہیں، حالانکہ میں نے اسے خود دیکھا ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے پورا وقوعہ ہوا ہے اور یہ قتل میں ملوث ہے۔مگر اس کے باوجود یہ شخص اپنی سیاسی دھونس اور دباؤ کے ذریعے اسے بے گناہ کرانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے، اور آج اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر یہ یہاں بھی موجود ہے۔ جو کہ سراسر ظلم ہے، ایک بزرگ مگر باہمت خاتون امیرا بی بی نے وہ کر دکھایا جس کی توقع کم ہی لوگوں کو تھی۔ذرائع کے مطابق امیرا بی بی نے اجلاس میں ملزم اور اس کے سہولت کاروں کو کھری کھری سنا دیں، دباؤ، رعب اور سیاسی اثر و رسوخ کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ ان کے الفاظ نے نہ صرف کمرے کی فضا بدل دی بلکہ انکوائری آفیسر پر بھی سچ عیاں ہو گیا۔ میٹنگ کی اندرونی کہانی اب سامنے آ چکی ہے، اور ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ کیس اب دبایا نہیں جا سکتا۔ آخر میں امیرا بی بی کا دو ٹوک پیغام گونجتا رہا “میں دباؤ میں نہیں آؤں گی، سلمیٰ جبیں کو انصاف دلا کر ہی دم لوں گی۔”






