تازہ ترین

ملتان: نجی کلب کو ڈیڑھ سال مفت بجلی فرائم، 31 لاکھ یونٹس صارفین کے کھاتے میں شامل

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں نجی لگژری کلب اور فائیو سٹار ریزورٹ کے بجلی سکینڈل کی مزید تہہ در تہہ تفصیلات سامنے آ گئی ہیں جو اس پورے معاملے کو محض بلوں کی عدم ادائیگی نہیں بلکہ ایک منظم، سوچے سمجھے اور طویل منصوبے کے تحت کی گئی کارروائی ظاہر کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تقریباً اٹھارہ ماہ تک نجی لگژری کلب اور فائیو سٹار ریزورٹ کو بجلی اسی پرانے 11KV پینل کے ذریعے فراہم کی جاتی رہی مگر اس پورے عرصے میں کسی قسم کی باقاعدہ بلنگ نہ کی گئی۔ حیران کن طور پر اتنی طویل مدت تک بھاری مقدار میں بجلی کے استعمال کے باوجود نہ صرف ریکارڈ کو نظرانداز کیا گیا بلکہ دانستہ طور پر اسے چھپایا جاتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ معاملہ افشا ہونے اور اندرونی سطح پر سوالات اٹھنے کا خدشہ پیدا ہوا تو ایس ای آپریشن ملتان امجد نواز بھٹی، ایل ایس رانا مظہر لطیف اور ایل ایم رانا خضر حیات جو کہ الیاس انٹرپرائزز کے پارٹنرز بھی بتائے جاتے ہیں اور نجی سوسائٹیز میں بجلی کے متعدد امور طے کرتے ہیں، نے باہمی مشاورت سے نجی لگژری کلب اور فائیو سٹار ریزورٹ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر پرانا 11KV پینل ہی’’غائب‘‘کرا دیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ بغیر بلنگ فراہم کی جانے والی بجلی کے شواہد ختم کر دیے جائیں اور بعد ازاں تمام تر ذمہ داری نئے میٹریل کی آڑ میں دبائی جا سکے۔ اس معاملے کا سب سے حیران کن اور مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ بعد میں اسی پینل کو کاغذوں میں’’چوری شدہ‘‘ ظاہر کر دیا گیاجبکہ ٹیکنیکل ماہرین کے مطابق اس 11KV پینل کا سائز تقریباً 12 فٹ ضرب 7 فٹ ضرب 3 فٹ ہے، جسے نہ تو عام افراد اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی بغیر لفٹر یا ہیوی مشینری کے انسٹال یا ڈی انسٹال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بھاری اور بڑے پینل کی چوری کا دعویٰ بذاتِ خود اس کہانی کو ناقابلِ یقین بنا دیتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پینل اسی نجی لگژری کلب اور فائیو سٹار ریزورٹ کے ایک مخصوص کمرے میں نصب تھا، جہاں ہائی سکیورٹی انتظامات موجود تھے۔ مزید یہ کہ اس کمرے کی دو چابیاں میپکو کے دو سینئر انجینئر افسران کے پاس تھیں، جو باقاعدگی سے ہر ماہ وہاں آ کر ریڈنگ لیتے رہے۔ ایسی صورتحال میں اگر یہ پینل واقعی’’چوری‘‘ ہو جاتا ہے تو سب سے بڑا سوال اس فائیو سٹار ریزورٹ کی سکیورٹی پر اٹھتا ہے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی انتہائی بچگانہ محسوس ہوتا ہے کہ لفٹر سے اٹھایا جانے والا اتنا بڑا پینل خاموشی سے اور آسانی سے غائب ہو گیا۔توانائی کے ماہرین اور ٹیکنیکل حلقوں کا کہنا ہے کہ میپکو افسران کی جانب سے نجی لگژری کلب اور فائیو سٹار ریزورٹ کو پینل کی چوری ظاہر کرنے کا مشورہ دینا نہایت غیر سنجیدہ عمل ہے۔ ان کے مطابق’’نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے‘‘اور یہاں معاملہ ایسا ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی بجلی جس میں تقریباً 31 لاکھ یونٹس شامل ہیں، کو چھپانے کے لیے ایک ایسا بہانہ گھڑا گیا جسے نہ کوئی ٹیکنیکل ماہر قبول کر سکتا ہے اور نہ ہی ایک عام آدمی۔ بظاہر پینل کو صرف کاغذوں کی حد تک چوری شدہ دکھایا گیا تاکہ بغیر بلنگ فراہم کی گئی بجلی اور تقریباً 14 کروڑ روپے کے نقصان کو آسانی سے فائلوں میں دفن کیا جا سکے۔ اسی تسلسل میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعد میں میسرز طارق الیکٹرک پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور سے نیا 11KV پینل خریدا گیا، جس کا نمبر 241-01-25-TE اور ماڈل 12.06 VD4/P بتایا جاتا ہے۔ اس نئے پینل کی دوبارہ انسپکشن چیف انجینئر میٹریل انسپکشن پی پی ایم سی لاہور نے لیٹر نمبر 1965.Vol-VII1/6942-44 No/18486 مورخہ 30-06-2025 کے تحت کی۔ تاہم ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ نیا پینل کس نے فراہم کیا یا اس کی انسپکشن کب ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ پرانے پینل کے ذریعے تقریباً ڈیڑھ سال تک استعمال ہونے والی بجلی کہاں گئی اور اس کا مالی بوجھ کس نے اٹھایا۔ ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے میں تمام تر ذمہ داری سابق چیف انجینئر ٹیکنیکل اور موجودہ آئیسکو چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو آفیسر جام گل محمد اور ایس ای آپریشن ملتان امجد نواز بھٹی پر عائد ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انجینئر خالد محمود نے اس سکینڈل میں اس حد تک بھرپور ساتھ دیا کہ جس این او سی پر پہلی مرتبہ پینل کی اجازت دی گئی تھی، اسی این او سی کو بنیاد بنا کر نئے پینل کی خریداری اور تنصیب کی بھی اجازت دے دی گئی جو قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی سمجھی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ مئی 2024 سے اگست 2025 تک تقریباً 31 لاکھ یونٹ بجلی نجی لگژری کلب نے استعمال کی جس کا تخمینہ بل تقریباً 14 کروڑ روپے بنتا ہے۔ یہ رقم نہ تو سرکاری خزانے میں جمع ہوئی اور نہ ہی کسی باقاعدہ صارف کے کھاتے میں ظاہر ہوئی بلکہ ذرائع کے مطابق اسے قریبی فیڈرز اور علاقوں کے عام صارفین کے بلوں میں چپکے سے شامل کر دیا گیا تاکہ نقصان کہیں نہ کہیں پورا کیا جا سکے۔ پرانے 11KV پینل کا غائب ہونا اور پھر اسے چوری شدہ ظاہر کرنا اس پورے سکینڈل کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ سول سوسائٹی، توانائی کے ماہرین اور عوامی حلقوں نے ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ آئیسکو چیف ایگزیکٹو افیسر آنجینئر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو آفیسر جام گل محمد اور ایس ای آپریشن ملتان امجد نواز بھٹی کے تمام فیصلوں، مالی معاملات اور کردار کا مکمل فرانزک آڈٹ کروایا جائےتاکہ یہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے کہ کروڑوں یونٹس بجلی کا یہ معاملہ محض’’چوری‘‘نہیں بلکہ کاغذوں میں کی گئی ایک منظم کارروائی تھا اور اس کے ذمہ داران کون ہیں۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب چیف انجینئر جواد منصور سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ رومینزہ گولف اینڈ کنٹری کلب نے تقریباً 31 لاکھ یونٹ استعمال کیے جس کا بل 14 کروڑ روپے تقریبا ًبنتا ہے، یہ یونٹس کہاں گئے اور اس کا بل کیا وصول کر لیا گیا ہے۔ تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ اس خبر کو آئیسکو چیف ایگزیکٹو آفیسر و سابقہ جنرل منیجر ٹیکنیکل انجینئر خالد محمود، چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو جام گل محمد، میپکو ایس ای آپریشنز ملتان امجد نواز بھٹی اور فرحان شبیر کو بھیج کر موقف لیا گیا تو وہ بھی کوئی جواب نہ دے سکے۔

مزید پڑھیں: ملتان: پی سی بی میچز میں بھی چوری کی بجلی استعمال، میپکو نیوٹرل، نجی کلب کا چھکا، بل زیرو

ملتان (سٹاف رپورٹر) میپکو اور نجی لگژری کلب کے بجلی سکینڈل کے پس منظر میں ایک واضح، منظم اور طے شدہ ایجنڈا کارفرما رہا جس کا مقصد ملتان میں ہونے والے کرکٹ میچز کے دوران نجی کلب کو غیر قانونی فائدہ پہنچانا تھا۔ انکشاف ہوا ہے کہ مارچ 2024 میں ایس ای آپریشن سرکل ملتان امجد نواز بھٹی نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر 11KV پینل نصب کروایا اور اسے انرجائز کر دیا حالانکہ نہ اس پینل کو کوئی کوڈ یا ریفرنس نمبر الاٹ کیا گیا اور نہ ہی اس کی باقاعدہ بلنگ کی گئی۔ چار مارچ 2024 کو ہوٹل کے افتتاح کے فوراً بعد ملتان میں منعقد ہونے والے مختلف قومی و بین الاقوامی کرکٹ میچز کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پورا ہوٹل کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے بک رکھا جس کے نتیجے میں ہوٹل میں بجلی کا استعمال کئی گنا بڑھ گیا مگر ذرائع کے مطابق ان تمام میچز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی مکمل طور پر چوری شدہ تھی اور دانستہ طور پر اس کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا۔ یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھاجس میں ایس ای آپریشن سرکل ملتان امجد نواز بھٹی نے مرکزی کردار ادا کیا جبکہ سابقہ جی ایم ٹیکنیکل اور موجودہ چیف ایگزیکٹو افسر آئیسکو انجینئر خالد محمود اور موجودہ چیف ایگزیکٹو افسر میپکو جام گل محمد نے بطور اعلیٰ انتظامی سربراہان اس پورے غیر قانونی عمل کو یا تو تحفظ فراہم کیا یا دانستہ طور پر نظر انداز کیے رکھا۔ ذرائع کے مطابق بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے پرانے 11KV پینل کو’’غائب‘‘کروا کر کاغذوں میں چوری شدہ ظاہر کیا گیا حالانکہ ٹیکنیکل ماہرین کے مطابق اتنے بھاری پینل کی چوری کا دعویٰ خود ہی اس کہانی کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت تقریباً 31 لاکھ یونٹ بجلی جن کی مالیت لگ بھگ 14 کروڑ روپے بنتی ہے عوام الناس کے بلوں میں ایڈجسٹ کر دیے گئے تاکہ اصل فائدہ اٹھانے والے نجی ہوٹل کو کسی قسم کی مالی ذمہ داری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حیران کن طور پر فیڈر انسٹال نہ ہونے کے باوجود میٹریل نکلوا کر سائیڈ لائن کر دیا گیا حالانکہ اس فیڈر کا ڈیمانڈ نوٹس پہلے ہی جمع کروایا جا چکا تھا۔ اس اقدام کا مقصد بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ کاغذی کارروائی مکمل ظاہر کی جائے جبکہ عملی طور پر غیر قانونی سپلائی جاری رکھی جا سکے۔ یاد رہے کہ اس تمام عرصے میں ہوٹل کے لیے کوئی علیحدہ فیڈر نصب نہیں کیا گیا اور تمام تر بجلی بچ ولاز گرڈ سٹیشن سے فراہم کی جاتی رہی جو کہ بی تھری (B-3) کنکشن کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی نکات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ معاملہ صرف بجلی چوری تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر کی گئی ایک منظم کارروائی ہے جس کی ذمہ داری براہِ راست ایس ای آپریشن ملتان سرکل امجد نواز بھٹی، چیف ایگزیکٹو آفیسر آئیسکو انجینئر خالد محمود اور چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو جام گل محمد پر عائد ہوتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں