عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کردیا

اسلام آباد: بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سنائے گئے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ دونوں کی جانب سے سزا کے خلاف الگ الگ اپیلیں دائر کر دی گئی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ اپیلیں وکیل خالد یوسف چوہدری کے ذریعے جمع کروائی گئیں، جہاں بشریٰ بی بی کی اپیل کو ڈائری نمبر 24561 جبکہ عمران خان کی اپیل کو ڈائری نمبر 24560 الاٹ کر دیا گیا ہے۔
عدالت میں دائر کی گئی اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے انعام اللہ شاہ کے بیان پر انحصار کیا، حالانکہ وہ پہلے ہی ملازمت سے برطرف ہو چکے تھے۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ وعدہ معاف گواہ کے بیان کو بنیاد بنانا قانونی طور پر درست نہیں تھا اور استغاثہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ قانون کے خلاف ہے اور ایک ہی نوعیت کے جرم میں متعدد مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ اپیل میں کہا گیا کہ اسپیشل سینٹرل عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا، اس لیے فیصلہ کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
اپیلوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ بنایا گیا جبکہ بلغاری سیٹ توشہ خانہ کے قواعد کے مطابق سابق حکمران جوڑے کے پاس موجود رہی۔ مزید کہا گیا کہ مقدمہ مکمل تفتیش کے بغیر قائم کیا گیا اور یہ کارروائی سیاسی انتقام کے زمرے میں آتی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار سرکاری ملازم کی تعریف میں نہیں آتے، اس لیے ان پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے عدالت سے اپیلوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں