مبینہ گھریلو ناچاقی پر ماں کی چار بچوں سمیت نہر میں چھلانگ، خاتون محفوظ، بچوں کی تلاش جاری-مبینہ گھریلو ناچاقی پر ماں کی چار بچوں سمیت نہر میں چھلانگ، خاتون محفوظ، بچوں کی تلاش جاری-پنجاب یونیورسٹی: شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں مرغیاں پالنے کا انکشاف، تحقیقاتی کمیٹی قائم-پنجاب یونیورسٹی: شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں مرغیاں پالنے کا انکشاف، تحقیقاتی کمیٹی قائم-جنوبی پنجاب سمیت صوبہ میں اینٹی کرپشن شکنجہ سخت، بدعنوان افسروں و اہلکاروں کی کڑی نگرانی-جنوبی پنجاب سمیت صوبہ میں اینٹی کرپشن شکنجہ سخت، بدعنوان افسروں و اہلکاروں کی کڑی نگرانی-گھریلو تشدد، میاں بیوی جھگڑے تیز، ملتان ریجن میں ڈیڑھ سال میں 56 ہزار شکایات-گھریلو تشدد، میاں بیوی جھگڑے تیز، ملتان ریجن میں ڈیڑھ سال میں 56 ہزار شکایات-حسنین بوسن قتل کیس کا فیصلہ، مرکزی ملزم کو پھانسی، ساتھی کوعمرقید کی سزا-حسنین بوسن قتل کیس کا فیصلہ، مرکزی ملزم کو پھانسی، ساتھی کوعمرقید کی سزا

تازہ ترین

پِنکی کی لاہور پولیس سے 25 کروڑ کی مبینہ ڈیل کا خوفناک انجام، متعدد اموات،800 با اثر خریدار

لاہور (روزنامہ قوم انویسٹیگیشن سیل) اگر دو سال قبل 2024 میں انمول عرف پنکی کو لاہور پولیس کے نارکوٹکس انویسٹیگیشن ونگ (نارتھ) کی طرف سے گرفتار کیے جانے کے بعد مبینہ طور پر 25 کروڑ روپے رشوت کے عوض رہا نہ کر دیا جاتا اور اسی ڈیل میں این آئی یو (نارتھ) میں تعینات انسپکٹر رانا اکرم جو کہ این آئی یو (نارتھ) میں ڈی ایس پی اچھرہ سنٹر میں تعینات تھا اور براہ راست اس کیس کی تفتیش کر رہا تھا، انمول عرف پنکی کو اپنے نکاح میں نہ لے آتا تو درجنوں نوجوان پنکی کے بنائے ہوئے کوکین کے زہر آلود برانڈ کے استعمال سے موت کے منہ میں جانے سے بچ جاتے۔ نہ ہی ایک خاتون سابق وفاقی وزیر کی بیٹی اور نہ ہی سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی و سابق وفاقی وزیر کا بیٹا زہر آلود کوکین کے برانڈ جس کا نام’’ انمول عرف پنکی ڈان کوکین‘‘ تھا، کے استعمال سے موت کے منہ میں جاتے۔ انمول عرف پنکی 2024 میں لاہور کے این آئی یو نارتھ کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل خالص کوکین فروخت کیا کرتی تھی اور اس کا دھندہ اربوں روپےتک پھیل چکا تھا۔ اس خالص مال کی وجہ سے اس کا ملک بھر میں اعتماد قائم ہوا کہ وہ ایک نمبر سودا بیچتی ہے مگر لاہور پولیس کے مذکورہ یونٹ کی طرف سے ڈیل کے بعد رہائی پا کر اس نے کھل کر ملاوٹ شدہ کوکین بیچنا شروع کر دی جو لوگوں کی موت کا باعث بنی۔ پنکی جو اس وقت کراچی کی جیل میں قید ہے، پاکستان میں کوکین کی سب سے بڑی سپلائر تھی اور حساس اداروں و سندھ پولیس نے اس سے تفتیش کے دوران اب تک جو لسٹ مرتب کی ہے۔ اس میں ملک بھر کے امیر ترین گھرانوں کے 8 سو سے زائد افراد کے نام شامل ہیں اور ان 800 افراد جن میں سے اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہے، کی لسٹ روزنامہ قوم کے پاس بھی موجود ہے۔ حیران کن طور پر بعض پولیس افسران اور خصوصی طور پر پی ایس پی افسران بھی اس کے گاہکوں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہیں وہ اعلیٰ نسل کی کوکین مفت میں فراہم کیا کرتی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ جس ایس پی نے مبینہ طور پر 25 کروڑ روپیہ لے کر پنکی کو چند دن کوتوالی کی حوالات میں بند رکھنے کے بعد چھوڑ دیا وہ خود بھی کوکین کا عادی تھا۔ پاکستان کی منشیات کی منڈی میں کوکین کا ریٹ دو کروڑ روپے فی کلو ہے اور پرچون میں یہ 20 سے 30 ہزار روپے فی گرام فروخت کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انمول عرف پنکی کا رانا اکرم نامی سابق ڈی ایس پی شوہر اس وقت ملک سے باہر ہے اور اسے پاکستان سے فرار کرانے میں بھی اسی ایس پی کا ہاتھ ہے جس نے پنکی کو گرفتار کیا اور جو مبینہ طور پر خود بھی کوکین کا عادی ہے۔ اب اس ڈی ایس پی رانا اکرم کا پاکستان میں کسی سے کوئی رابطہ نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رانا اکرم نے یہ شادی دوران تفتیش ہی پنکی سے کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جسے پنکی نے اس لیے قبول کر لیا کہ اسے پولیس کا تحفظ مکمل طور پر حاصل ہو جائے گا کیونکہ ایک مرتبہ گرفتاری کے بعد وہ پولیس کے ریڈار پر آ چکی تھی اور ایسا ہی ہوا کہ 2024 سے لے کر 2026 تک اس نے کھل کر ملاوٹ شدہ کوکین فروخت کی اور کسی پولیس آفیسر نے پنجاب میں اس پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق 25 کروڑ روپے جو کہ رشوت کے طور پر اپنی رہائی کے عوض انمول عرف پنکی نے دیئے وہ دو ڈی ایس پی حضرات اور ایک ایس پی نے حصہ بقدر جثہ آپس میں بانٹ لئے۔ نارکوٹکس انویسٹیگیشن یونٹ (نارتھ) کی آشیر باد کے بعد انمول عرف پنکی نے کوکین میں زیر آلود کیمیکلز کی ملاوٹ شروع کر دی جس سے اس کے عادی افراد کا نشہ دو چند ہوجاتا۔ انمول عرف پنکی نے دلیری سے دھندہ کرنے کی خاطر اپنے ہی گھر میں ہی لیبارٹری قائم کر لی۔و ہاں وہ دو کروڑ روپے والی ایک کلو کوکین میں ایک کلو کیمیکل مکس کرنے لگی اور اسے دھڑلے سے فروخت کرنے لگی کیونکہ پنجاب میں کوئی اس پر ہاتھ نہیں ڈالتا تھا۔ سندھ کے سابق وفاقی وزیر کے بیٹے کی وفات اورسابق خاتون وزیر کی بیٹی کی پراسرار حالت میں موت نے پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت کو ہلا کر رکھ دیا اور صدر مملکت کے حکم پر سندھ پولیس نے حساس اداروں کے ہمراہ تفتیش شروع کی تو اسے معلوم ہوا کہ اس نیٹ ورک کو کراچی کی رہائشی انمول عرف پنکی لاہور میں بیٹھ کر چلا رہی ہے جس پر پنجاب پولیس کو بتائے بغیر سندھ پولیس نے لاہور میں آپریشن کیا اور پنکی کو اٹھا لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ رانا اکرم سے نکاح کے بعد انمول عرف پنکی ہنی مون کے لئے اس کے ہمراہ باکو بھی گئی تھی اور اس سفر کا ریکارڈ بھی ایجنسیوں نے حاصل کر لیا ہے۔ کراچی پولیس اور حساس اداروں نے ایک فہرست مرتب کی ہے جو کہ پنکی کے گاہکوں کی تھی اور ان میں سے 50 سے زائد گزشتہ دو سالوں میں موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر 2022 میں لاہور پولیس کا نارکوٹکس انویسٹی گیشن یونٹ (نارتھ) انمول عرف پنکی کو گرفتار کرنے اور کئی دن تک کوتوالی کی حوالات میں قید رکھنے کے بعد رہا نہ کرتا تو یہ 50 جانیں بچائی جا سکتی تھیں اور اس طرح ان 50 اموات کی ذمہ داری ایک بڑی حد تک نارکوٹکس انویسٹی گیشن یونٹ (نارتھ) کے انچارج ایس پی پر براہ راست عائد ہوتی ہے جس نے اپنے سینئر افسران کے علم میں لائے بغیر 25 کروڑ کی ڈیل کے عوض پنکی کو خاموشی سے رہا کر دیا۔ مذکورہ ایس پی جو کہ پی ایس پی آفیسر ہیں، کو پنجاب بدر کر دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں