پنکی کے رابطہ نیٹ ورک میں بیوروکریٹس، سفارتی و بااثر شخصیات کے نام بھی شامل-پنکی کے رابطہ نیٹ ورک میں بیوروکریٹس، سفارتی و بااثر شخصیات کے نام بھی شامل-ایران امریکا سمجھوتے کی تیاری، فیلڈ مارشل کا دوبارہ کامیاب، حوصلہ افزا پیشرفت-ایران امریکا سمجھوتے کی تیاری، فیلڈ مارشل کا دوبارہ کامیاب، حوصلہ افزا پیشرفت-میونسپل کارپوریشن ملتان میں راؤ رفیع کا راج، سی ای او سرپرست، مویشی منڈی میں بھتہ وصولی-میونسپل کارپوریشن ملتان میں راؤ رفیع کا راج، سی ای او سرپرست، مویشی منڈی میں بھتہ وصولی-ڈاکٹر مسعود ہراج کے اشارے پر نشتر میں پراپیگنڈا مہم، لیب پر ملبہ، مریضوں کا معائنہ بند-ڈاکٹر مسعود ہراج کے اشارے پر نشتر میں پراپیگنڈا مہم، لیب پر ملبہ، مریضوں کا معائنہ بند-نشتر ایڈز غفلت کیس: مسعود ہراج کلیئر، وی سی مہناز خاکوانی ڈاکٹروں کے سیاستدان کے آگے بے بس-نشتر ایڈز غفلت کیس: مسعود ہراج کلیئر، وی سی مہناز خاکوانی ڈاکٹروں کے سیاستدان کے آگے بے بس

تازہ ترین

کمپنیز ریگولیشنز 2024 میں اہم ترامیم! شفافیت کی طرف بڑا قدم

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کارپوریٹ شعبے کے لیے ایک مرکزی رجسٹری کے قیام کے سلسلے میں کمپنیز ریگولیشنز 2024 میں اہم ترامیم تجویز کر دی ہیں۔
ان مجوزہ ترامیم کے تحت، تمام کمپنیاں اپنے شیئر ہولڈرز سے حاصل کردہ حقیقی بینیفیشری مالکان (یو بی او) کی معلومات، ایس ای سی پی کو ای زی فائل پورٹل کے ذریعے فراہم کرنے کی پابند ہوں گی۔ یہ معلومات دیگر متعلقہ ریٹرنز یا فارمز کے ساتھ جمع کروائی جائیں گی تاکہ ضرورت پڑنے پر مالیاتی ادارے ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔
یہ اقدام اُن مسلسل اصلاحات کا حصہ ہے جو پاکستان کو سنہ 2022 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کے بعد کیے جا رہے ہیں۔ ان اصلاحات سے نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوا بلکہ بیرونی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی بھی بہتر ہوئی۔
ایس ای سی پی کے مطابق، ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کے تحت، مرکزی رجسٹری میں موجود یو بی او معلومات کا ریکارڈ درست، مکمل اور باقاعدگی سے اپ ڈیٹ ہونا ضروری ہے۔ یہ اقدام شفافیت کو فروغ دے گا اور ملک کے مالیاتی نظام پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔
مرکزی رجسٹری کا قیام پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررازم (سی ایف ٹی) فریم ورک کو ایف اے ٹی ایف، او ای سی ڈی اور دیگر عالمی اداروں کے معیارات سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں