بھارتی ڈیم بھر گئے، پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ، خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں

ملتان (سٹاف رپورٹر) بھارتی علاقے ہماچل پردیش میں بارشوں کے شدید سپیل کی وجہ سے وہاں کے ڈیم تیزی سے بھر رہے ہیں اور عالمی موسمیاتی رپورٹ کے مطابق ہماچل پردیش میں 23 اگست تک لگاتار بارشیں ہونگی جبکہ اس میں صرف ایک دن یعنی 10 اگست کو مختصر دورانیے کے لیے دھوپ نکل سکے گی۔ بھارتی دریاؤں کی صورتحال اس وقت یہ ہے کہ ان بارشوں کی وجہ سے نتھل ڈیم سمیت بھارتی علاقے میں تمام ڈیم بھر چکے ہیں اور اب بگلیہارڈیم تیزی سے بھر رہا ہے۔ ان مسلسل بارشوں کی وجہ سے بھارتی صوبے ہماچل پردیش میں برساتی پانی کی ولاسٹی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور بھارت کی طرف سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کیے جانے کی وجہ سے اب بھارت کی طرف سے پاکستان کو باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ سیلابی صورتحال کی اطلاع بھی نہیں دی جا رہی۔ اس صورتحال میں 15 اگست سے یکم ستمبر تک پنجاب کے تین دریاؤں چناب، راوی اور ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں اگر بھارت کی طرف سے ان تینوں دریاؤں میں ایک ہی وقت میں پانی چھوڑا گیا تو ایک مرتبہ پھر ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا کے علاوہ علی پور اوچ شریف کے نواحی علاقے گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی شدید سیلاب کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ہیڈ پنجند کے مقام پر چونکہ زمینی ڈھلوان کم ہے اور وہاں کسی مستند سروے کے بغیر ہیڈ پنجند کی ڈاؤن سٹریم میں جو کنکریٹ کی چھ فٹ بلند دیوار بنائی گئی ہے اس کی وجہ سے اس مرتبہ پھر سیلابی پانی کی گزرگاہ میں شدید رکاوٹ آئے گی جو اونچے درجے کے سیلاب کا باعث بن کر ان علاقوں کو گزشتہ سال کی طرح شدید متاثر کرے گی۔ حکومت پاکستان کے پاس قومی اور عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس پر مشتمل بھاری فائلیں عمل درآمد کے انتظار میں دیمک کی “تعلیم کا سامان” بن چکی ہیں۔ اسی قسم کی ایک رپورٹ میں دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر سمارٹ ڈیم بنانے کا منصوبہ شامل ہے کیونکہ یہاں پانی کی قدرتی ڈھلوان 300 فٹ کے قریب بنتی ہے جو کہ پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ کم لاگت سے بجلی بھی پیدا کر سکتی ہے اور سیلابی پانی کا ایک بڑا ذخیرہ پاکستان کو مل سکتا ہے جو ڈاؤن سٹریم کے علاقوں کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے قدرے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں