راجن پور: حفاظتی بندوں میں مبینہ کرپشن، سیلابی خطرات منڈلانے لگے

راجن پور(ڈپٹی بیورو چیف) ہر سال کی طرح امسال بھی متوقع سیلاب کی آمد بارے پیشن گوئیاں اور خطرات منڈلا رہے ہیں مگر کمزور منصوبہ بندی، نکاسی آب اور حفاظتی بندوں کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن سےبڑے خطرات لا حق ہیں۔سیلاب سے بچاؤ کیلئے کروڑوں روپے سے بنائے گئے حفاظتی بندوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ کوٹ مٹھن کی حفاظت کیلئے بننے والا مشوری بند مکمل طور پر ریت سے تیار کیا گیا جس سے کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں ہر سیلاب میں یہ بند ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے اور لاکھوں ایکڑ فصلیں۔سینکڑوں مکانات سیلابی پانی کی نظر ہوتے ہیں۔ دیگر علاقوں میں بھی گذشتہ سیلاب میں متاثر ہونے والے حفاظتی بند بھی جوں کے توں موجود ہیں جن کی مرمت تک نہیں کرائی گئی اور جن میں بڑے بڑے شگاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ عمرکوٹ تا بھاگسر کا واحد حفاظتی بند شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔ بند کے مختلف مقامات پر گہری دراڑیں، بڑے بڑے گڑھے اور ٹوٹ پھوٹ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ضلعی انتظامیہ سیلاب کے خطرات سے آگاہ کرتی ہے مگر سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ایسی صورتحال میں پانی کا ایک زور دار بہاؤ یا ریلا اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر راجن پور عمران حسین رانجھا اور کمشنر ڈیرہ اشفاق احمد چودھری سے مشوری بند کا دورہ کرنے اور ریت سے حفاظتی بند بنانے والوں کو نشان عبرت بنانے اور کمزور حفاظتی بندوں کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں