ملتان(شیخ نعیم سے)پنجاب کے جیل خانہ جات کے نظام میں مبینہ بدعنوانی، فرضی حاضریوں اور ڈیوٹی سے غیر حاضری کے حوالے سے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں جن پر اگر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ معاملہ نہ صرف محکمانہ نظم و ضبط بلکہ جیلوں کی سکیورٹی کے لیے بھی بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ذرائع اور مختلف حلقوں کے مطابق پنجاب کی بعض جیلوں میں مبینہ طور پر ایسا غیر قانونی طریقہ کار رائج ہے جس کے تحت چند ملازمین ماہانہ مبینہ رشوت دے کر ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضر رہتے ہیںجبکہ سرکاری ریکارڈ میں ان کی حاضری معمول کے مطابق درج کی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض جونیئرملازمین، جن میں وارڈرز اور دیگر اہلکار شامل ہیں، مبینہ طور پر اپنے متعلقہ افسران یا ڈیوٹی ریکارڈ کی نگرانی کرنے والے اہلکاروں کو ماہانہ رقم ادا کرتے ہیںجس کے بعد انہیں باقاعدہ ڈیوٹی انجام دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ الزام ہے کہ ایسے ملازمین سرکاری ڈیوٹی کے بجائے نجی کاروبار، پرائیویٹ ملازمت یا دیگر ذاتی مصروفیات میں مشغول رہتے ہیںجبکہ ہر ماہ مکمل سرکاری تنخواہ بھی وصول کرتے ہیں سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ریکارڈ میں 100 اہلکار ڈیوٹی پر موجود ظاہر کیے جائیں لیکن حقیقت میں صرف 20 یا 30 اہلکار موجود ہوں تو یہ صورتحال جیل کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں قیدیوں کی نگرانی، ہنگامی حالات سے نمٹنے، فرار کی کوششوں کی روک تھام اور جیل کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق- اگر فرضی حاضریوں اور ڈیوٹی سے غیر حاضری کا سلسلہ واقعی موجود ہے تو اس سے ایمانداری سے فرائض انجام دینے والے ملازمین پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور محکمہ جیل خانہ جات کا مجموعی نظام کمزور ہوتا ہے۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید بائیومیٹرک حاضری اچانک انسپیکشن، سی سی ٹی وی نگرانی، ڈیجیٹل ڈیوٹی روسٹر اور آزادانہ آڈٹ جیسے اقدامات اس قسم کی مبینہ بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر جیل میں ڈیوٹی ریکارڈ کا باقاعدہ فرانزک آڈٹ بھی کرایا جانا چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب، محکمہ داخلہ اور محکمہ جیل خانہ جات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر کسی بھی افسر یا ملازم کے خلاف رشوت لینے، فرضی حاضری لگانے، اختیارات کے ناجائز استعمال یا ڈیوٹی سے غیر قانونی طور پر غیر حاضر رہنے کے الزامات ثبوتوں کے ساتھ ثابت ہو جائیں تو قانون کے مطابق سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، جس میں ملازمت سے برطرفی، کرپشن، جعلسازی اور دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت مقدمات کا اندراج بھی شامل ہو، تاکہ جیلوں کی سیکیورٹی، نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔







