ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ ( آخری قسط)

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی تعداد لگ بھگ 75 فیصد ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ پاکستانی مسلمان ہیں کیونکہ یہ اہل بیت سے بھی بہت عقیدت رکھتے ہیں اور خلفائے راشدین کا احترام بھی کرتے ہیں تاہم میرا مذہب بارے زیادہ علم نہیں ہے۔ دیوبندی اور اہل حدیث مکتبہ فکر کا ماننا ہے کہ یہ بدعتی ہیں تاہم بریلوی مکتب فکر میں کافی لچک اور رواداری ہے، انتہا پسندی نہیں اور اطمینان بخش امر یہ ہے کہ ان کا عسکری پس منظر بھی نہیں ہے کیونکہ اس خطے میں پہلے ہندو رہتے تھے تو ان کی معاشرتی اور سماجی روایات کا اس خطے کے مسلمانوں پر اثرانداز ہونابھی قدرتی ہے جس طرح بھجن کی جگہ بزرگ صوفیا کرام نے قوالی کو فروغ دیا جو شاید اس خطے میں اس لیے رواج پایا کہ غیر مسلموں کی قربت حاصل کرکے ان کے انداز میں انہیں بتدریج دین کی طرف راغب کیا جائے۔ اسی طرح ہماری شادی بیاہ کی رسومات زیادہ تر ہندو رسم و رواج سے متاثر ہو کر اختیار کی گئی ہیں۔
ایک مسلمان کیلئے حضور پاکؐ سے محبت ایک لازمی عنصر ہے کیونکہ اللہ تعالی پہ ایمان نبی پاکؐ پر کامل اور انہیں آخری پیغمبر مانے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ نواسہ رسول سیدنا امام حسین ؓکی شہادت پر دکھ اور رنج کا ہونا بھی قدرتی امر ہے لیکن جس طرح حضرت عثمان ؓ کو شہید کیا گیا وہ بھی انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ’’ہم مکتبہ ہیں یاران نبی کچھ فرق نہیں ان چاروں میں‘‘ ہمارا اس پر پورا یقین ہے لہٰذا مسلمانوں کے اس طبقہ کا عربی اور ایرانی فکر سے کوئی تعلق نہیں۔ کچھ لوگ تو سمجھتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی شہادت تک یہ اولاد مناف کی لڑائی تھی۔ صفوی کی ایران پر حکومت کے بعد عرب قوم پرستی نے سنی یا اہل حدیث کی آڑ لے لی ہے اسی طرح ایرانی قوم پرستی کیلئے شیعہ مکتب فکر میں پناہ مل گئی۔ یہ علیحدہ بحث ہے جس پر اہل علم ہی روشنی ڈال سکتے ہیں مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ خوش قسمتی سے پاکستان میں آباد مسلمانوں کی بھاری اکثریت دونوں انتہا پسندانہ سوچوں سے دور ہے اور کسی کی بھی پراکسی بننے کو تیار نہیں۔ کچھ دوست یہ رائے رکھتے ہیں کہ پہلےہم پاکستانی قوم تو بن جائیں۔ میرا ماننا ہے اگر ہم پاکستانی مسلمان بن گئے تو پاکستانی قوم بھی بن جائے گی۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ہندوستان صدیوں سے ایک ملک ہے اور پاکستان ایک تجربہ ہے جو کامیاب بھی ہوسکتا ہے اور ناکام بھی ہو سکتا ہے۔ جب سے مودی کی ہندواتا کی علمبردار حکومت برسر اقتدار آئی ہے میرے دوست جو کہ ہندوستان کے صوبہ ہریانہ سے تعلق رکھتے ہیں، ہرپال سنگھ بھٹی صاحب وہ ہریانہ اسمبلی کے ممبر اور کمیونسٹ پارٹی ہریانہ کے جنرل سیکرٹری رہے ہیں کہا کرتے تھے کہ ہندوستان میں گزشتہ 75سالوں سے مسلسل جمہوریت رہی ہے میں انھیں کہا کرتا تھا سردار صاحب اس سے ہندواتا اور Rss برآمد ہوئی جس نے گاندھی اور نہرو کے لبرل ازم اور سیکولر ازم کا بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا ہے جبکہ پاکستانی عوام جو کہ زیادہ تر مارشل لا یا کنٹرولڈ جمہوریت کے زیرسایہ رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی مذہبی جماعتوں کو 6فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں دیے تاہم ایک صوبہ کے پی کے میں ایک مرتبہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت رہی ہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت انتہا پسندی کے عملی طور پر مخالف رہی ہے۔ دو دن پہلے میری ہریال سنگھ سے جو کہ آج کل کینڈا میں ہیں بات ہوئی تو وہ دہلی میں جین زی کاکروچ پارٹی کے دھرنے پر بہت خوش تھے اور کہہ رہے تھے یہ جمہوریت کا کمال ہے کہ زین جی نے مودی اور مودی میڈیا کی اکڑ کو خاک میں ملا دیا۔ مذہبی منافرت کی بنیاد پر بھارت کی مودی سرکار آخرکار اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے، میں پھر بھٹک گیا۔
بات پاکستان میں اہل تشیع اور دوسرے مکتبہ فکر کی ہو رہی تھی۔ کافی عرصہ پہلے تقریباً 25/30 سال قبل میرے دوست زمان جعفری کے گھر محفل شب میں ایک مشہور شیعہ ذاکر سے ملاقات ہوئی۔ اکثر شیعہ ذاکرین کی طرح وہ بھی علم الکلام اور علم البیان پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ (بدقسمتی سے وہ اس فرقہ پرستی کی آگ کی نذر ہو گئے، اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے) رات کے آخر پہر میں جب میں نے کہا کہ اہل کوفہ نے امام حسینؓ کے ساتھ دھوکا نہیں تھا کیا؟ انہوں نے کہا بالکل ٹھیک ہے دھوکا ہی کیا تھا۔ پھر انہوں نے بتایا عاشورہ کے دس دنوں کی مجالس اور رسومات پر صفوی حکمرانوں نے سختی سے عمل درآمد کرایا اور عبادت و عقیدت کی باقاعدہ شکل دی اور ساتھ ہی اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اہل بیت کے بار ے میں مکمل معلومات دینے اور اہل بیت کے ہر فرد کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک اور بارہ اماموں کی خدمات اور مشکلات کے بارے پڑھایا اور بتایا جاتا ہے۔ حضرت عثمانؓ کے ساتھ بھی بہت ظلم اور زیادتی ہوئی۔ انہیں بھی ناحق شہید کیا گیا مگر آپ لوگوں نے اس بارے میں اپنی نسلوں کو مکمل آگاہی نہیں دی۔ میں نے کہا جناب شکر ہے بریلوی حضرات نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اگر بریلوی بھی اپنے بچوں کی ذہن سازی اسی طرح کرتے تو لامحالہ جس نے حضرت عثمانؓ کی شہادت کو لیکر مسئلہ پیدا کیا تھا وہ سچے لگتے حالانکہ ہم سمجھتے ہیں فہم و فراست کے سمندر حضرت علیؓ نے باامر مجبوری خلافت قبول کی تھی اور حضرت عثمانؓ کی شہادت سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ہم چاروں خلفائے راشدین کا برابر احترام کرتے ہیں۔ جس طرح تشدد تشدد کو جنم دیتا ہے اسی طرح نفرت بھی نفرت پیدا کرتی ہے جہاں تک ابوالکلام والی بات ہے، موجودہ پاکستان مختلف قومیتوں، تہذیبوں اور زبانوں کا ملک ہے تاہم ابھی تک ہمیں 1973ء کے وفاقی اور پارلیمانی نظام نے جوڑا اور متحد رکھا ہوا ہے وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں آخر ایک قوم بننا ہے۔ آخر میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب نے جو کہا ہے’’جن لوگوں کو ایران سے ہمدردی ہے وہ ایران، جنہیں عربوں سے ہمدردی ہے وہ عرب چلے جائیں‘‘ یہ بات بالکل درست ہے۔ کوئی عرب ملک ہو یا ایران کوئی بھی آپ کو قومیت دینے کو تیار نہیں ہے جن لوگوں کی روزی روٹی عرب ممالک یا ایران سے وابستہ ہے ان کیلئے یہ ایک مکمل اور بر محل پیغام ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں